41

پاکستان کو اس وقت بین الاقوامی سازشوں کا سامنا ہے:سینیٹر سراج الحق

میانوالی(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پاکستان کو اس وقت بین الاقوامی سازشوں کا سامنا ہے ۔ چین کے قونصلیٹ پر حملہ اور اورکزئی ایجنسی میں دھماکہ ان پاکستان دشمن قوتوں کی سازش ہے جو نہیں چاہتیں کہ پاکستان ترقی کرے ۔ ان سازشوں کا مقابلہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ قوم ایک پیج پر ہو۔ قومی یکجہتی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پہل کرتے ہوئے اس طرف قدم بڑھائے ۔ اس وقت اسمبلیوں کے اندر اور باہر بھی لڑائیاں ہورہی ہیں ۔ حکومت کا رویہ مخالفتوں میں اضافے کا سبب بن رہاہے ۔ حکومت کے پہلے سو دن پورے ہونے میں چار دن باقی ہیں لیکن ملک میں دور دور تک تبدیلی کے کوئی آثار نہیں ۔ اگرتبدیلی آئی ہے تو وہ صرف مہنگائی کی صورت میں آئی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چہر ے تو بدلے ہیں مگر حکومتی رویہ تبدیل نہیں ہوا ۔ حکومت میں اب بھی وہی لوگ ہیں جو اس قوم کی محرومیوں کے ذمہ دار ہیں ۔ جو لوگ گزشتہ حکومتوں میں مالدار اور خوشحال تھے ، وہی موجودہ حکومت میں خوشحال ہیں ۔ غریب اور عام آدمی کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ غریب کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب اور ناگفتہ بہ ہوگئی ہے ۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غریب پر مزید بوجھ بڑھ گیاہے ۔امیر ہر موسم کو انجوائے کرتاہے اور غریب کے لیے گرمی اور سردی کی الگ الگ پریشانیاں اور مشکلات ہوتی ہیں ۔ سرگودہا میں ہائی کورٹ بنچ کے قیام کے وکلا کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے میانوالی میں میانوالی بھکر اور خوشاب کے ارکان کے اجتماع سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر اظہر اقبال حسن ، امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم اور عبدالوہاب نیازی بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے مضبوط اور مستحکم معیشت کا ہونا ضروری ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امن کے لیے معاشی مسئلے کا حل ہونا ناگزیر ہے ۔ جماعت اسلامی نے پہلے دن ہی حکومت کو یقین دلایا تھاکہ اگر انہوںنے کوئی اچھا کام کیا تو جماعت اسلامی نہ صرف اسے سراہے گی بلکہ اس کام میں بھر پور تعاون بھی کریں گے لیکن عوام کے مفادات کے خلاف اگر کوئی کام ہوا تو حکومت کو توجہ دلائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سے ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہم تو چاہتے ہیں کہ حکومت ایک کروڑ نوجوانوں کو ملازمتیں دینے اور پچاس لاکھ لوگوں کو چھت مہیا کرنے کے اپنے اعلانات اور وعدوں پر عمل کرے ۔آئی ایم ایف کے پاس جانے کو وزیراعظم نے خود کشی قرار دیا تھا، لیکن اب پھر ”اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں “ کے مصداق اپنے اعلان کے خلاف قدم اٹھا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پھندے میں جو آجاتاہے اسے نکلنا مشکل ہو جاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے میرٹ کی بالادستی کا بار ہا اعلان کیا مگر اب تک حکومت اپنے کسی وعدے کو پورا نہیں کرسکی ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ تین ماہ سے حکومتی اقدامات اس کے اپنے منشور اور اعلانات کے خلاف ہورہے ہیں جبکہ عام آدمی ان حکومتی اقدامات کی وجہ سے مہنگائی کی دلدل میں پھنس گیاہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ دہشتگردی اور بدامنی کے خاتمہ کے لیے پوری قوم کو متحد ہو نا پڑے گا ۔ حکومت کے سو دن پورے ہونے کو ہیں مگر کراچی سے چترال تک پریشانی ہی پریشانی ہے ۔ معاشی خوشحالی ہوگی تو ملک میں سکون ہوگا ۔ سودی نظام کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا ۔ اسلام کا معاشی نظام ہی ملک کو موجودہ معاشی بحرانوں سے نجات دلا سکتاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں