42

ممبئی حملوں کا ڈرامہ وطن عزیز پاکستان، فوج اور آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کیلئے رچایا گیا:مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور دانشور حضرات

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین اور دانشور حضرات نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں کا ڈرامہ وطن عزیز پاکستان، فوج اور آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کیلئے رچایا گیا۔ میثاق جمہوریت کے تحت وزیر اعظم بننے والے نواز شریف نے اجمل قصاب کو پاکستانی ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی اور غیر ملکی صحافی کو اوکاڑہ بھیجا گیا کہ اسے اجمل کا گھر دکھایا جائے۔ انڈیا کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے پاک فوج اور آئی ایس آئی کو ڈی گریڈ کرنے کی سازش کی گئی۔ سابق وزیر اعظم نے بھارتی مفادات کے تحفظ اور محض وزارت عظمیٰ کیلئے ملک و قوم سے غداری کی۔ حافظ محمد سعید اور جماعةالدعوة کیخلاف ممبئی حملوں کا کوئی الزام آج تک ثابت نہیں کیا جا سکا۔فوج، حکومت، عدلیہ اور ادارے ایک پیج پر ہیں۔ اب وہ میثاق جمہوریت کا دور نہیں چلے گا۔ پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرتی ہے۔ حکمران قومی کشمیر پالیسی پر کاربند ہوں۔ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔ہمیں ذاتی سوچ اور خاندان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دفاع پاکستان کیلئے کردار ادا کرنا ہے۔طارق اسماعیل ساگر بھارتی ڈرامہ بے نقاب کرنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، لیاقت بلوچ، مجیب الرحمن شامی،اوریا مقبول جان، طارق اسماعیل ساگر، ایثار رانا،سہیل وڑائچ، منیر احمد بلوچ، بشریٰ نوازودیگر نے ممبئی حملوں کے حوالہ سے جرمن صحافی Elias Davidssonکی کتاب کا ترجمہ کرنے والے معروف صحافی طارق اسماعیل ساگر کی کتاب ”26/11ممبئی حملہ ، ہوشربا انکشافات“ کی مقامی ہوٹل میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر صحافیوں، کالم نگاروں اور دانشوروں سمیت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود تھی۔ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اپنے خطاب میں کہاکہ ممبئی حملوں کا ڈرامہ پاکستانی فوج، آئی آایس آئی اور ملک کو بدنام کرنے کیلئے رچایا گیا۔ بھارتی اداروںنے اجمل قصاب نامی ایک شخص کو گرفتار پکڑا اور دنیا بھر میں ہرزہ سرائی شروع کر دی کہ یہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے لیکن حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اجمل قصاب کو اوکاڑہ کاثابت کرنے کیلئے بھرپور کوشش کی۔ حقیقت یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم میثاق جمہوریت کے تحت وزیر اعظم بننے کے امیدوار تھے اور یہ بات طے تھی اور انہیں سمجھایا گیا تھا کہ انڈیا جو کچھ بھی کرے آپ نے اس کے ساتھ مخاصمت نہیں رکھنی اوراس کے منفی رویہ کوبھی دنیا بھر میں بے نقاب نہیں کرنا۔انہوںنے کہاکہ سابق حکمرانوںنے تو ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف کو انڈیا بھیجنے کا بھی فیصلہ کر لیا تھااور پاک فوج کو ڈی گریڈ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن یہ سازش ناکام ہوئی اور حکومت کو اپنا یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے جو باتیں کیں اس کے متعلق کم بارکر نامی ایک غیر ملکی صحافی نے کتاب بھی لکھی ہے اور واضح کیا ہے کہ کس طرح اوکاڑہ کے آئی جی کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اجمل قصاب کو پاکستانی ثابت کرنے کیلئے اوکاڑہ کے فرید کوٹ میں اجمل قصاب کا گھر دکھائیں ۔ یہ میثاق جمہوریت کے تحت بننے والے وزیر اعظم کی حالت ہے۔ اجمل قصاب پھانسی پر چڑھتے وقت بھگوان کے نعرے لگا رہا تھا ۔ اب بھارتی میڈیا بھی ثابت کر رہا ہے کہ وہ ہندوستانی شہری تھا۔بھارتی میڈیا کی یہ خبرمیثاق جمہوریت کے تحت پنپنے والے اور نواز شریف کی سیاست پر طمانچہ ہے جو اجمل قصاب کو پاکستانی ثابت کرنے پر اس لئے تلے ہوئے تھے کہ انہیں مستقبل کا وزیر اعظم بنایا جارہا تھا۔سابق وزیر اعظم نے انڈیا کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے ملک و قوم سے غداری کی۔ آج ایک یہودی مصنف نے حقائق واضح کر دیے ہیں ۔فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ اجمل قصاب کے بعد ڈیوڈ ہیڈلی سے متعلق کہا گیا کہ اس نے بتایا ہے کہ اس میں حافظ محمد سعید اور کشمیری جہادی تنظیم لشکر طیبہ ملوث تھی۔ ڈیوڈ ہیڈلی کا اصل نام داﺅد گیلانی تھا اور وہ ہیروئن کا اسمگلر تھاجو سی آئی اے اور ایف بی آئی کا ایجنٹ تھا۔ اچانک اسے نکال کر پاک فوج، آئی ایس آئی اور لشکر طیبہ کو بدنام کرنے کیلئے الزامات لگائے گئے۔

اس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنا تھا۔ لوگ چھبیس الیون اور سیون سیون کا رونا روتے ہیں۔ پاکستانی عوام سال بھر اس طرح کے واقعات کا شکار رہے ہیں اور تقریبا اسی ہزار سے زائد جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ ایک سو بیس ارب ڈالر کا نقصا ن ہوا۔ پاک فوج، آئی ایس آئی اور اداروں نے پوری دنیا کو سکون دینے کیلئے دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑی اور ہم نے یہ قربانیاں دیں پھر بھی ڈونلڈ ٹرمپ اٹھ کر کہے کہ پاکستان نے کچھ نہیں دیا اور بعض پاکستانی سیاستدان را کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے پاکستان کی فوج اور اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کریں تو ایسانہیں ہونے دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ سابق حکمران عالمی طاقتوں کے ایجنڈے پر چلتے ہوئے ریاستی اداروں کیخلاف بولا کرتے تھے اور انہیں کروڑوں روپے کی فنڈنگ ہوتی تھی،اب پاکستان میں یہ دور دوبارہ نہیں آئے گی۔ فوج، حکومت، عدلیہ اور ادارے ایک پیج پر ہیں۔ اب وہ میثاق جمہوریت کا دور نہیں چلے گا۔ اس دور میں جس سیاستدان، صحافی نے جو کردار ادا کرنا تھا کر لیا اب پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگے اور اب اللہ ، اس کے رسول اور نظریہ پاکستان کی بات ہو گی۔اب یہ نہیں ہو گا کہ بھارتی بھگوان کہتے ہیں اور ہم خدا کہتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ یہ تو قائد اعظم اور دیگر لیڈروں پر الزام لگا رہے ہیں۔ وہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ خود کو محبت وطن کہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پائے اور نہاری کھا کر ان کی عقلوں پر چربی چڑھی ہوئی تھی۔صرف وزارت عظمیٰ اور اداروں کے خلاف بغض و عناد کیلئے اجمل قصاب کو پاکستانی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ہمیں اپنی ذاتی سوچ اور خاندان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے ملک کے تحفظ کیلئے کھڑا ہونا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ میں طارق اسماعیل ساگر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ہر وہ سیاستدان اور صحافی کہ جو کرپشن اور نوسربازی سے پاک ہو کر پاکستان کی جنگ اس دور میں لڑ رہا ہے، ایسے دور میں جب ہر کوئی پیسے کیلئے بکنے اور حکمرانوں کی کاسہ لیسی کیلئے تیار رہتا ہے۔ ان حالات میں ایسے صحافی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والے پاکستان کو اللہ تعالیٰ قیامت تک قائم رکھے گاور سازشوں کو ناکام بنائے گا۔ دفاع پاکستان کونسل اور جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ ممبئی حملوں کا کوئی الزام پاکستان اور جماعةالدعوة کیخلاف ثابت نہیں کیا جا سکا۔ افسوس کہ ہمارے سیاستدان دہشت گردی اور پانی چوری کے مسئلہ پر بھارت کا نام لینے سے کتراتے ہیں۔ بھارت نے ممبئی حملوں کا ڈرامہ رچایا لیکن ہمارے وزیر اعظم کلبھوشن کا نام آج تک نہیں لے سکے۔چند دن قبل بھارتی آرمی چیف نے حملہ کی دھمکی دی جس کے بعد چینی قونصل خانے پر حملہ کیا گیا اور دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوںنے کہاکہ بیرونی قوتوں نے کوشش کی کہ پاکستان کو دہشت گردی سے جوڑ کر بدنام کیا جائے۔ ممبئی حملوں کا یہ ڈرامہ دیکھیں، دس لوگ ایک چھوٹی سی کشتی میں اسلحہ کا انبار لیکر کیسے پہنچے کہ بھارتی ایجنسیوں اور اداروں کو خبر تک نہ ہوئی ۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس سامان پر سٹیکرز پاکستان کے لگے ہوئے تھے۔ یہ افسانہ چلایا گیا اور دونوں بڑی پارٹیوںنے بھارتی مﺅقف کی حمایت کی۔سارا ملبہ حافظ محمد سعید اور جماعةالدعوة پر ڈال دیا گیا۔ حافظ محمد سعید پاکستانی شہری ہیں۔ ان پر الزام پاکستان پر الزام ہے۔ سولہ ملکوں کے لوگ سازش کے تحت مارے گئے تاکہ انہیں پاکستان کیخلاف کیا جائے۔یہ معاملہ صرف جماعةالدعوة نہیں اس ملک کا ہے۔ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ کشمیر کے ساتھ محبت ہر پاکستانی اپنے دل میں رکھتا ہے۔ اسی لئے جماعةالدعوة بھی کشمیریوں کی حمایت کرتی ہے۔ ممبئی حملوں کے بعد پکڑ دھکڑ ہوئی اور پابندیاں لگیں ، میں نے یہ کیس لڑا۔

دہلی کے حکم پر پاکستانی حکمرانوںنے ان پر مقدمہ بنایا جن کیخلاف پورے ملک میں کوئی ایک کیس نہیں ہے۔ ہم نے اس مقدمہ میں اپنے ملک کو بری الذمہ کرنے کیلئے بھرپو رکیس لڑا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ڈیم بنانے کے بعد بھی پانی آنا چاہیے۔ قومی صحافت میںا نڈیا کی آبی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے کہاکہ ممبئی حملے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کا ذریعہ تھے۔بھارت سرکار کشمیر یوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھارتی دہشت گردی کو بھرپور انداز میں بے نقاب کرے۔ انہوںنے کہاکہ کتاب کے یہودی مصنف نے بہت محنت سے حقائق جمع کئے ہیں اور طارق اسماعیل ساگر نے ترجمہ کر کے پاکستانی قوم کیلئے بہت سہولیت پیدا کر دی ہے۔نامور صحافی اور دانشور مجیب الرحمن شامی نے کہاکہ پاک فوج اور اداروں کا احترام بہت ضروری ہے اور جو کوئی احترام نہیں کرتا اس کی حب الوطنی پر شک کیا جانا چاہیے۔ اس کتاب میں بہت سے حقائق منظر عام پر لائے گئے ہیں۔ اس کتاب کا ہر کسی کو مطالعہ کرنا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ طار ق اسماعیل ساگرایک باصلاحیت اور پاکستان کے محبو ب لکھاری ہیں۔ ان کی کئی کتابوں کے تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ معروف کالم نگار اور دانشور اوریا مقبول جان نے کہاکہ طارق اسماعیل ساگر میں پاکستانیت کا خون دوڑتا ہے۔ آج سازش کے تحت دنیا بھر میں صرف مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کشمیر، فلسطین سمیت مختلف خطوں و علاقوں میں نہتے مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے۔ معروف صحافی اور ممبئی حملوں کے حوالہ سے کتاب کے مصنف طارق اسماعیل ساگر نے کہا کہ جرمن صحافی نے ممبئی حملوں سے متعلق کتاب میں جس بے باکی سے پاکستان کا کیس لڑا اور حقائق کو بیان کیا اسی کا خاصہ ہے۔ اس سازش کے پس منظر میں جن کا کردار ہے اور جو ملک دشمنی کر رہے ہیں انہیں قوم کے سامنے لانا چاہیے۔سینئر صحافی اور کالم نگار ایثار رانا،سہیل وڑائچ، منیر احمد بلوچ، بشریٰ نوازودیگر نے کہاکہ جرمن صحافی کی کتاب نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ ممبئی حملوں کا ڈرامہ پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے رچایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں