105

سری نگر میں کشمیری جہادی تنظیم لشکر طیبہ کے معروف کمانڈر نوید جٹ بھارتی فوج سے جھڑپ میں شہید، ہزاروں کشمیریوں کا سڑکوں پر نکل کر خراج عقیدت

سری نگر(پاکستان اپ ڈیٹس )مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع بڈگام میں دو اور کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیاہے۔ ان نوجوانوں کو ضلع کے علاقے چھتر گام میں تلاشی اور محاصرے کی ایک کارروائی کے دوران شہید کیا۔نوجوانوں کی لاشیں کارروائی کے دوران تباہ کئے گئے ایک مکان کے ملبے سے ملی ہیں۔آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں فوجی کارروائی جاری تھی۔ایک سینئر پولیس افسر نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ نوجوان کشمیری مجاہدین تھے جن میں سے ایک کشمیری جہادی تنظیم لشکر طیبہ کا کمانڈر نوید جٹ ہے۔ اس جھڑپ میں تین بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ قابض انتظامیہ نے ضلع میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کشمیریوں کی طرف سے جٹ، جٹ، نوید جٹ کے زبردست نعرے لگائے جاتے رہے۔ حریت کانفرنس کے قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یٰسین ملک اور محمد اشرف صحرائی نے بڈگام میں شہید نوجوانوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ نوید جٹ کی شہادت کی خبر پر ہزاروں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور بھارتی فوج کے ظلم و دہشت گردی کیخلاف زبردست احتجاج کیا۔ کشمیری نوجوانوں نے بھارتی فورسز اہلکاروں پر پتھراﺅ بھی کیا۔ کشمیریوں کا سخت احتجاج دیکھ کر بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گن کے چھرے برسائے اور بدترین لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس سے 30سے زائد کشمیری نوجوان زخمی ہوگئے جن میں سے نصف درجن نوجوانوں کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔ زخمی کشمیریوں کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کروادیا گیا ہے۔حریت قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اورمحمد یٰسین ملک نے بڈگام میں شہید ہونے والے کشمیری مجاہدین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری نوجوان عالمی ضمیر کو جگانے اور اپنی قوم کو بھارتی تسلط سے نجات دلانے کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں تاکہ اقوام عالم کشمیریوں سے کئے گئے اپنے وعدے پورے کرے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ نوید جٹ 2011ءمیں مقبوضہ کشمیر داخل ہوا تھا اور بھارتی فورسز کیلئے درد سر بنا ہوا تھا۔ بعد ازاں 2015ءمیں وہ کولگام کے بہی باغ گاﺅں سے زخمی حالت میں گرفتار ہو گیا تھا۔ کمانڈر نوید جٹ رواں سال چھ فروری کو بھارتی حراست سے فرار ہو ئے اور بحفاظت کشمیری مجاہدین کے ساتھ مل گئے تھے۔ نوید جٹ کی شہادت کے بعد سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جن میں بھارتی فورسز اہلکاروں کی جانب سے نہتے کشمیریوں کی گاڑیوں کے شیشے اور دروازے ٹوٹے ہوئے دکھائے گئے ہیں جبکہ مقامی کشمیری بھارتی درندگی کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔ بھارتی میڈیا نوید جٹ کی شہادت پر زبردست خوشی کا اظہار کر رہا ہے۔تعلیمی اداروں کے طلباءنے بھی احتجاجی مظاہرے کئے اور شہیدکی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ دریں اثناءحریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے وادی کشمیر کے طول وعرض میں بھارتی قابض فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پر جاری نہتے کشمیریوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا اٹھارہ ماہ کی حبہ کو کیوں پیلٹ گنوں کا نشانہ بنایا گیا ؟کیااس نے بندوق یا پتھر اٹھا رکھا تھا۔حریت قائدین نے کہاکہ انسانیت کے خلاف ان جرائم کو جائز ٹھہرانے کے لئے بھارت ہمارے مقتولین کو دہشت گرد اور ہماری املاک اور نہتے لوگوں کو دہشت گردوں کا معاون قرار دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمران اور جموں وکشمیر میں تعینات اسکی فورسز نے نہتے کشمیریوں پر ظلم و جبر اور قتل و غارت کا سلسلہ دراز اور تیزکردیا ہے جس کا واحد مقصد کشمیریوں کو اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے روکنا ہے تاہم انہوںنے واضح کیاکہ اس طرح کے حربوں سے کشمیریوںکو اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے روکا نہیں جاسکتا۔انہوںنے بھارتی حکمرانوں اورگورنر سے سوال کیاکہ وہ بتائیں کہ حبہ کوکیوں بصارت سے محروم کیاگیا اور مسکان کو کیوں قتل کیاگیا کیاوہ کوئی دہشت گرد تھیں یا انہوںنے ہاتھوںمیں بندق یا پتھراٹھا رکھے تھے؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں