84

مودی سرکار جدوجہد آزادی کچلنے کیلئےاپنا آخری زور لگا رہی ہے،دنیا خاموش تماشائی نہ بنے۔پروفیسرحافظ محمد سعید

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بھارتی فوج نے کشمیریوں کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں شدت پیدا کر دی۔ ایک ہفتہ میں 25سے زائد کشمیری شہید کر دیے گئے، دنیا خاموش تماشائی نہ بنے۔مودی سرکار جدوجہد آزادی کچلنے کیلئے اپنا آخری زور لگا رہی ہے۔ حکومت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کاکھل کر ساتھ دے۔ یہ وقت مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ کشمیری برستی گولیوں میں پاکستانی پرچم لہرا کر ہمیں نظریہ پاکستان یاد کروا رہے ہیں۔ شہداءکے جنازوں پر فائرنگ کی جارہی ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدہ کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔ شملہ معاہدہ سے جدوجہد آزادی کشمیر کو سخت نقصان پہنچا۔ یہ معاہدے پاکستان کی مجبوریوں سے فائدے اٹھا کر کئے گئے، پاکستانی قوم انہیں تسلیم نہیں کرتی۔ دنیا میں امن کا قیام اورظلم و دہشت گردی کا خاتمہ سیرت النبی ﷺ پر عمل سے ہی ممکن ہے۔ مغرب سے اقتدار منتقل ہو رہاہے، اب محمدی نظام دنیا پر قائم ہو گا۔ وہ جامع مسجد القادسیہ چوبرجی میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب اور بعد ازاں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایوان کارکنان پاکستان میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ حافظ محمد سعید کی اپیل پر لاہور سمیت چاروں صوبوں و آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کے نتیجہ میں شہید ہونے والے کشمیریوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔جامع مسجد القادسیہ میں کشمیری شہداءکی غائبانہ نماز جنازہ جماعةالدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید نے پڑھائی۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ایوان کارکنان پاکستان میںکانفرنس کے موقع پرچیف جسٹس (ر) میاں محبوب احمد، وائس چیئرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ میاں رفیق احمد،جسٹس (ر) خلیل الرحمن، نظریہ پاکستان کے سیکرٹری ڈاکٹر شاہد رشید ، ابوالہاشم ربانی، عامر شیخ ، محمد یحییٰ مجاہد و دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ محمد سعید کے خطاب کے دوران پاکستان کا مطلب کیا، حافظ محمد سعیدسے رشتہ کیالاالہ الااللہ اور کشمیریوں کے حق میں زبردست نعرے لگائے گئے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری ڈاکٹر شاہد رشید نے استقبالیہ کلمات ادا کئے ۔ امیر جماعةالدعوة پاکستان حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ بھارتی فوج نے کشمیر میں آپریشن آل آﺅٹ کے نام پر بدترین ظلم و دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ کشمیر کی آزادی سے پورے خطہ کے حالات تبدیل ہوں گے۔ شہداءکی قربانیوں کے نتیجہ میں تحریک آزادی عروج پر پہنچ چکی۔ بھارت زیادہ دیر تک اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔اس وقت نظریہ پاکستان کے لئے ہم وہ کردار ادا نہ کر سکے جو کشمیر ی ادا کر رہے ہیں۔سرینگر کے لال چوک میں کشمیری برستی گولیاں میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔انہوں نے پاکستان کا جھنڈا اٹھا کراورجھنڈوں میں دفن ہو کر دنیا کو مضبوط پیغام دیا ہے۔ بھارت کشمیریوں پر بدترین مظالم ڈھا رہا ہے لیکن بین الاقوامی دنیا اندھی ہو چکی ہے۔اب تو کشمیر میں جنازوں پر فائرنگ ہو رہی ہے۔پیلٹ گن اور کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں۔ اس کے باوجود کشمیری نظریہ پاکستان سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ نظریہ پاکستان کے وارث بن ہمیں یاد دلا رہے ہیں کہ پاکستانیو ں تم کیوں بھول گئے ہو۔ حقیقت میں یہ نظریہ پاکستان کی تحریک ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں قائداعظم کے وارث نظریہ پاکستان کو قائم نہ رکھ سکے اورنہ اس کے تقاضوں کو سمجھ سکے،بانی پاکستان محمد علی جناح نے ہمیںایک قوم بنایا تھا لیکن پھر سازش کے تحت بلوچی،سندھی کی دراڑیں ڈالی گئیں ۔پاکستان کا مطلب کیا کا نعرہ جتنا زور سے ڈھاکہ ،چٹاگانگ میں لگتا تھا شاید لاہور میں نہیں لگا،جب کلمہ کی بنیاد پر پاکستان کی بات کی تو سب ایک ہو گئے۔لیکن جب اس نظریہ سے غفلت اختیار کی تو بنگالی الگ ہو گئے۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیرت النبی ﷺ کی بنیاد پر پورا نظام دیا ہے جس کو روئے زمین پر قائم کر کے دنیا کو امن و انصاف دینا ہے۔اسی میں ہماری آزادیوں کا راستہ اور انسانیت کی بقا ہے۔سیرت محض ایک موضوع ہی نہیں بلکہ بنی نوع انسان کی فلاح اور کامیابی کا پورا نظام ہے جو نبی اکرم ﷺ نے پیش کیاہے۔نماز روزہ صرف چند عبادات نہیں ،گھرون میں کیسے رہنا ہے،معاشرے کیسے آباد کرنے رہنے ہیں ،یہ ہمیں سیرت سے معلوم ہوتا ہے۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ انڈیا بلوچستان میں ناکام ہو رہا ہے۔ برصغیر میں انڈیا ور پاکستان کی جنگ ہے۔ تقسیم ہند کے بعد انڈیا نے پاکستان کا پانی بند کر دیا تھا۔ اسی طرح سندھ طاس معاہدہو ا ، لیکن انڈیا کسی عالمی معاہدے کا پابند نہیں ہے ۔ آج کشمیری اللہ کے فضل و کرم سے ہمیں نظریہ پاکستان یاد دلا رہے ہیں۔ اللہ کرے کہ پاکستانیوں کو بھی کشمیریوں کا خون سے بہتا ہوا پیغام سمجھ آجائے اور وہ اسے دل سے قبول کر لیں۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ جب کوئی قوم تمہارے ساتھ کیا گیا عہد توڑ دے تو پھر اس عہد او رمعاہدہ کو ان کے منہ پر مانا چاہیے۔ یہ سیرت کا پیغام ہے۔ سندھ طاس معاہدہ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ انڈیا نے اس پر عمل نہیں کیا ، معاہدے کے مطابق دریاﺅں میں بیس فیصد پانی ہونا چاہیے لیکن کیا اس میں بیس فیصد ہے، بالکل نہیں ہے۔ بلکہ جو دریا پاکستان کے حصہ میں آئے ان پر بھی ڈیم بنائے جارہے ہیں۔انڈیا نے عالمی اداروں کو ساتھ ملا کر پاکستان کیخلاف سازشیں کیں۔اللہ بھلا کرے چیف جسٹس کا وہ اس وقت پانی کا مسئلہ قوم کو سمجھا رہے ہیں۔انڈیا اس وقت پاکستان کو پانی سے محروم کر رہا ہے۔ وہ بغیر جنگ لڑے پاکستان کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ جب زراعت اور صنعت متاثر ہو گی تو معیشت کا کیا بنے گا؟۔ سندھ طاس معاہدہ کی دھجیاں بکھیری گئیں۔انہوں نے کہاکہ شملہ معاہدہ نے پاکستان کا بہت بڑ انقصان کیا اور کشمیر پر ہمارے موقف کو سخت نقصان پہنچایا۔ یو این کی قراردادوں کا موقف چھوڑا گیا۔ سقوط ڈھاکہ کے حالات کی وجہ سے انڈیا نے فائدہ اٹھایا اور شملہ معاہدہ کر کے کشمیر کی آزادی میں بہت بڑی رکاوٹ کھڑی کی۔ جو ملک کی بقاکی بنیاد پر معاہدے کئے جائیں ہم انہیں تسلیم نہیں کر سکتے، شملہ معاہدہ غلط تھا او رہے۔ ہم نے حکومت کو سمجھانا ہے کہ ہمارا موقف یو این کی قراردادوں کے مطابق وہی ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق ملنا چاہیے۔ اس بات کو تحریک بنانا ہے۔انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس کی طرف سے ڈیموں کی تعمیر کیلئے مہم چلانا اچھی بات ہے لیلن یہ اس وقت فائدہ مند ہو گا جب دریاﺅں میں پانی آئے گا۔ اگر انڈیا نے پانی روک لیا تو ڈیم کیا کریں گے؟۔ہمیں بھارت سے اپنا پانی واگزار کروانا ہے۔آج میں یہ باتیں کرتا ہوں اور اسی کو جرم سمجھ کر میرے خلاف مذموم پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری ڈاکٹر شاہد رشید نے کہاکہ حافظ محمد سعید مجاہد پاکستان اور غازی ملت ہیں۔ ان کی قربانیوں کے برصغیر کے مسلمان معترف ہیں اور کشمیریوں کی طرح بھارتی مسلمان بھی ان کے ولولہ انگیز جذبوں سے رہنمائی لیتے ہیں۔ مجھے مجید نظامی صاحب کی آج یاد آ رہی ہے کیونکہ وہ آپ کے ساتھ آپ کے کردار کی وجہ سے پیا ر کرتے تھے۔کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ ہمارا دل دھڑکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدہ پر نظرثانی ہونی چاہئے۔بین الاقوامی قانون کہتا ہے کہ آبی حیات کے لئے بیس فیصد پانی ہونی چاہئے لیکن بھارت وہ بھی نہیں دے رہا،اس معاہدے پر نئے سرے سے غور ہونا چاہئے۔جب کشمیر کی بات ہوتی ہے تو امریکہ شملہ معاہدے کا نام لیتا ہے ،وہ معاہدہ مجبوری میں ہوا ہم ایسے معاہدے جس پر قومی وقار پرحرف آتا ہو اس کو نہیں مانتے۔پاکستان لاالہ الااللہ کے عملی نفاذ کے لئے بنا تھا۔ہم پاکستان کے اساسی نظریہ کے فروغ اور تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر او رآبی جارحیت کے مسئلہ پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں