42

روپے کی بے قدری، ڈالرملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرجا پہنچا

کراچی(پاکستان اپ ڈیٹس ): انٹربینک میں پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالرتاریخ کی بلند ترین سطح 142 روپے پر پہنچ گیا۔ انٹربینک مارکیٹ میں جمعے کوروپے کی نسبت ڈالرکی قدرمیں مزید 8 روپے کا اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک امریکی ڈالرکی قدر 134 روپے سے 142 روپے تک جا پہنچی ہے۔ روپے کی قدرمیں کمی کے بعد غیرملکی قرضوں کے حجم میں 760 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض کے اجرا کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط میں روپے کی قدر میں مزید کمی سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کے امکانات بھی ہیں۔ ڈالرکی بڑھتی ہوئی قدرسے ملک میں مہنگائی کا سیلاب امڈ آئے گا، روزمرہ استعمال کی ضروری درآمدی اشیا، پٹرول سمیت ہرشے کی قیمت بڑھ جائے گی جبکہ مقامی صنعتوں میں استعمال ہونے والے درآمدی خام مال کی قیمت بڑھنے سے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوجائے گا۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کرے گا، اسٹیٹ بینک کا موجودہ پالیسی ریٹ 8.50 فیصد ہے جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف ہی کی تجاویز کی روشنی میں شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کے امکانات بھی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں