42

جب تک ڈالر کی غلامی سے نہیں نکلیں گے پاکستانی معیشت کو آزادی نہیں ملے گی:سیف اللہ خالد

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے کہا ہے کہ جب تک ڈالر کی غلامی سے نہیں نکلیں گے پاکستانی معیشت کو آزادی نہیں ملے گی۔اسوقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کیا جائے۔اپنی درآمدات کو بڑھایا جائے۔کسانوں کو ریلیف دیا جائے اور نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ انہیں ہنر مند بنایا جائے۔موجودہ حالات میں پاک فوج اور عوام پاکستان کا ایک پیج پر ہونا دشمن کے پروپیگنڈے کے توڑ کے لئے انتہائی ضروری ہے۔کشمیر کے حوالہ سے پاکستان جارحانہ سفارتکاری کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مختلف وفود سے ملاقات کے دورا ن گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سیف اللہ خالد نے کہا کہ ہم پاکستان کے نظام سیاست کی اصلاح چاہتے ہیں۔پاکستان کا آئین و دستور عظیم ہے میں سمجھتا ہوں کہ کسی ملک کے آئین میں اتنی اسلامی دفعات نہیں جتنی پاکستان کے آئین میں ہیں۔ اس میں جو سقم موجود ہیں ان کی بھی اصلاح ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کسی سیاسی پارٹی کو وہ چیلنجز درپیش نہیں تھے جو ہمیں ہیں اس کے باوجود الیکشن لڑا۔ہم ملک بھر میں عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ملی مسلم لیگ ہر یونین کونسل کی سطح پر خدمت کمیٹی بنائے گی۔ غریب بچوں کو تعلیمی وظائف دیں گے۔ملی مسلم لیگ کے کارکنان میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ نوجوان نظریئے پر کھڑے ہونے والے ہیں۔ نظریہ پاکستان کو اجاگر کرنے اور تحریک پاکستان والے جذبے دوبارہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بارے موجودہ حکومت ہر فورم پر بات کر رہی ہے۔ کشمیریوں کو اسوقت حوصلہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کو قوم کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔کشمیری قوم کی حوصلے بڑھانے کے لیے پاکستانی قوم کو نکلنا پڑے گا۔ آزادی کے یک نکاتی ایجنڈے پر کشمیری قوم کھڑی ہے۔ پاکستان ان کا واحد وکیل ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال کر رہا ہے جو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال ہو رہا ہے۔اسوقت بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ ہر فورم پر پاکستان کشمیر کی آواز اٹھائے اورجارحانہ سفارتکاری کی جائے۔ سیف اللہ خالد نے کہا کہ ہم ایسے حالات میں گزر رہے ہیں کہ فوج اور عوام کا ایک پیج پر ہونا انتہائی ضروری ہے تا کہ دشمن قوتوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔پاکستان میں بدامنی کے پیچھے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔اپنی فوج کو گالیاں دینے کی مکروہ رسم صرف پاکستان میں ہے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ فوج کے خلاف بغاوت کی جائے یا کہا جائے۔ اس روش کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں