28

ظلم و ناانصافی کے خاتمہ اور عدل کے قیام میں محنت کش طبقہ کو بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔حافظ محمد سعید سمیت ملی لیبر فیڈریشن، واپڈا پیغام یونین اور ملک بھر کی مزدور یونینز کے سربراہان نے قومی لیبر کانفرنس سے خطاب

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )مذہبی و سیاسی قائدین سمیت ملی لیبر فیڈریشن، واپڈا پیغام یونین اور ملک بھر کی مزدور یونینز کے سربراہان نے قومی لیبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضے لیکر ملک میں چلائی جانے والی پالیسیوں نے مزدوروں اور محنت کش طبقہ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ظلم و ناانصافی کے خاتمہ اور عدل کے قیام میں محنت کش طبقہ کو بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان بھر کے مزدور طبقہ کو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر متحد کریں گے۔ مغرب سے اقتدار منتقل ہو رہا اوردنیا میں اسلامی انقلاب کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ تمام کنٹریکٹ ،ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کیا جائے۔تمام بند پاور ہاﺅسز چلائے جائیں۔ریلوے، پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل کو نجکاری سے نکالنااحسان اقدام ہے۔ بجلی کمپنیوں کی نجکاری بھی منسوخ کی جائے۔مزدوروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔ ہیلتھ کیئر15فیصد میڈیکل الاﺅنس کا اجراءاورخالی پوسٹوں پر مزدوروں کے بچوں کو بھرتی کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار جماعةالدعوة کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید(ٹیلیفونک)، ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد، ملی لیبر فیڈریشن اور واپڈا پیغام یونین کے صدر ایس ڈی ثاقب، ملی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری محمد یعقوب شیخ،چوہدری احسان احمد،ریلوے لیبر یونین کے صدرچوہدری عنایت علی گجر، محمد سرفراز خان،حافظ کاظم رضا، صفدر شاہ،محمد الیاس منہاس،جمیل کھوکھر،مبشر شاہ،رانا طارق،ملی رکشہ یونین کے شیخ نعیم،ایپکاکے مرکزی رہنما عمران خورشید اعوان،مختار گجر، توقیر اسلام، اجمل چوہدری، یحییٰ گجر، پرویز احمد قریشی،محمد ساجن پہنور،سخی سلطان، ارباب الطاف،سردار پرویز،رانا محمد بوٹا،ارشاد ملک،محبوب عالم و دیگر رہنماﺅںنے ملی لیبر فیڈریشن پاکستان کے زیر اہتمام مال روڈ پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ملی لیبر فیڈریشن سمیت واپڈا پیغام یونین، ریلوے لیبر یونین، ایپکا اور دیگرتنظیموںکے چاروں صوبوں و آزاد کشمیر سے آنے والے مزدر رہنماﺅں اور ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔مختلف مزدرو رہنماﺅں کے پنڈال پہنچنے پر ان کا بھر پور استقبال کیا جاتا رہااورپھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔مقررین کے پرجوش خطابات کے دوران شرکاءاپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔قومی لیبر کانفرنس کے اختتام پر واپڈا پیغام یونین کے مرکزی صدر ایس ڈی ثاقب نے مطالبات کی منظوری تک واپڈا ہاﺅس کے باہر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا۔ جماعةالدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ اللہ تعالیٰ اس امت کو میدان میں کردار ادا کرنے کا موقع دے رہا ہے۔ صلیبیوں ویہودیوں نے ظلم کے رویے اختیار کئے اور دنیا میں قتل و حقوق کے غصب کا نظام کیا۔ مسلمانوں کو حقوق سے محروم کیا جاتا رہااب یہ سلسلہ ختم ہو رہا ہے۔ بیرونی قوتیں اس وقت پریشان ہیں کہ مسلمان اپنے قدموں پر کھڑے ہو رہے ہیں۔ اسلام پوری دنیاکانظام بن رہا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ دین غالب ہو کر رہے گا۔اس وقت اسلام اور کفر کی جنگ جاری ہے۔ یہ صرف ہتھیاروں اور فوج نہیں نظریات اور تہذیبوں کی جنگ ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم نے یہ جنگ لڑنی اور باطل نظاموں کا خاتمہ کرنا ہے۔ا للہ کے بندوں کو غلامی سے نجات دلانی، مظلوم کی مدد کرنی اور ظلم کا خاتمہ کر کے عدل کا نظام نافذ کرنا ہے۔ اس کردار میں محنت کشوں کا بہت بڑا حصہ ہو گا۔انہوںنے کہاکہ آج تک تو ہمارے مزدوروں اور محنت کشوں کو غیر مسلم نظاموں کا نمائندہ بنا کر استعمال کیاگیا۔ کیمونسٹوںنے بہت گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ آج محنت کش اسلام اور نبی اکرم ﷺ کی جماعت ہیں۔ا للہ سے پختہ عہد کریں کہ اسلام اور کفر کی جنگ میں ہر محنت کش بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا۔ہم نے اس کیلئے ذہن سازیاں کرنی اور بھرپور محنت کرنی ہے۔ ملی لیبر فیڈریشن کا منشور ہے کہ سب سے پہلے پاکستان کے محنت کشوں کو خالصتا کلمہ کی بنیاد پر متحد کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ ناموس رسالت ﷺکے تحفظ کیلئے اور دین اسلام کے قیام کیلئے مسلمان ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد نے کہا کہ مزدور طبقہ متحد ہو جائے تو حکومتوں کیلئے مطالبات ماننے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ہم تمام محکموں کے مزدوروں کو یقین دلاتے ہیں کہ ملی مسلم لیگ ان کے حقوق کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہے۔مزدور کی کم سے کم اجرت کے قانون پر کسی جگہ عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ لیبر قوانین صحیح معنوں میں نافذ نہیں ہیں جس سے مزدوروں کا استحصال ہوتا ہے۔ملی مسلم لیگ کا منشور ہے کہ غریبوں، مزدوروں اور کسانوں کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہئیں۔ملی لیبر فیڈریشن کے صدر سراج الدین ثاقب نے کہاکہ مزدوروں کا معاشرے میں ان کا جائز مقام دلوائے بغیر ملک کسی طور ترقی نہیں کر سکتا۔عام لوگ، غریب اور محنت کش طبقہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے، انہیں حقوق سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ مزدور کو خوشحال کیے بغیر ملک خوشحال نہیں ہوسکتا۔افسوس کی بات ہے کہ مزدوروں کے مسائل کے حل کی طرف کسی حکومت نے توجہ نہیں دی۔ملی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری محمد یعقوب شیخ نے کہا کہ حکمران مزدوروں کی زندگیاں بھی دیکھیں اور غریبوں، بے کسوں کے حال پر رحم کریں۔ مزدور اپنا پسینہ بہا نا بند کر دیں تو ملک کی معیشت نہیں چل سکتی۔جہاں آپ اپنے حقوق کیلئے اپنا پسینہ بہائیں گے ہم ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہوں گے۔ حکمران اپنی پالیسیوں کی اصلاح کریں اور مزدوروں کو حقوق دیں۔شیعہ رہنما حافظ کاظم رضا،محمد سرفراز خان،چوہدری عنایت گجر، چوہدری احسان احمد، صفدر شاہ،محمد الیاس منہاس،جمیل کھوکھر،مبشر شاہ،رانا طارق،ملی رکشہ یونین کے شیخ نعیم،ایپکاکے مرکزی رہنما عمران خورشید اعوان، پرویز احمد قریشی،ارباب الطاف،سردار پرویز،رانا محمد بوٹا،ارشاد ملک،محبوب عالم و دیگر نے کہاکہ ملی لیبر فیڈریشن کی طرف سے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس)ملی لیبر فیڈریشن کی قومی لیبر کانفرنس کے اختتام پر پیش کردہ متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ریاست مدینہ کا تقاضا ہے کہ سود ی نظام،انگریزی عدالتی نظام ، مغربی تعلیمی نظام ختم کیاجائے۔آئی ایم ایف، ورلڈ بینک سے نجات کیلئے سود لینے دینے پر پابندی عائد کی جائے۔ کرپشن سے بنائے گئے اثاثوں کو ضبط کیا جائے۔تمام تر رکاوٹیں ختم کرکے فی الفور ڈیمز بنا کر سستی بجلی مہیا کی جائے پانی کے خوفناک بحران سے بچنے کیلئے مصلحتیں ختم کی جائیں ۔ نجکاری آئی ایم ایف کا یہودی ایجنڈا ہے نجکاری کمیشن ختم کیا جائے۔نجکاری منسٹر، نجکاری کمیشن آئی ایم ایف کی نشانی ختم کی جائے ۔ ریلوے ، پی آئی اے، پاکستان سٹیل کو نجکاری سے نکالنا حکومت کا احسن اقدام ہے۔ تمام دیگر اداروں کو بھی نجکاری سے نکال کر مستحکم کیا جائے۔آئین کے مطابق ٹریڈ یونینز کی مکمل آزادی بحال کی جائے تاکہ ٹریڈ یونینزکیخلاف تمام غیر آئینی قوانین منسوخ کیے جائیں۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ این آئی آر سی میں ساٹھ سال سے زائد عمر والی تقرریاں منسوخ کی جائیں اور اسے کرپشن بلیک میلنگ وٹریڈ یونین دشمنی سے روکا جائے۔رجسٹرار ٹریڈ یونینز NIRCکوعدالت طرز عمل اختیار کرنے سے روکا جائے اس وجہ سے ٹریڈ یونینز پرناقابل تلافی بوجھ سے ٹریڈ یونینز ختم ہورہی ہے۔ٹریڈ یونینز میں سرکاری مداخلت بند کی جائے انتقامی طرز عمل شرمناک ہے ۔محنت کشوں کیخلاف ظالمانہ قوانین ختم کیے جائیں ۔تمام کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز، ورک چارج مستقل کیے جائیں اور ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیاجائے۔ آٹھ گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی لینے کا طرز عمل تشویش ناک ہے یہ سلسلہ بند کیا جائے ،مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دینے کی پالیسی اپنائی جائے۔کم از کم تنخواہ معاوضہ ایک تولہ سونا کے برابر مقرر کیا جائے اور مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے۔ خالی پوسٹو ں پرملازمین کے بچوں کی بھرتی یقینی بنائی جائے ۔پرموشن پوسٹوں کو ہر تیس دن کے اندر پر کیا جائے۔ علاج معالجے کی سہولتیں بلا تفریق تمام ملازمین کو مہیا کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں