140

بلوچستان کی ترقی کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا :سینیٹر سراج الحق : کوئٹہ میں پریس کانفرنس

کوئٹہ (پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعت اسلامی پاکستا ن سینیٹر سراج الحقنے کہاہے کہ بلوچستان کی ترقی کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا ۔ قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان کو ظالم سرکار اور ظالم سردار نے مسائلستان بنادیاہے ۔ ظالم سرکار نے صوبے میں کرپشن اور ظالم سردار نے فرعونیت اور لاقانونیت کو فروغ دیا ۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبائی ورکس ڈیپارٹمنٹ میں اڑسٹھ فیصد کرپشن کرپشن ہے ۔ کرپشن روکنے کے لیے یہاں نیب بھی کوئی کارکردگی دکھانے میں ناکام ہاہے ۔ سی پیک پر صوبے کے عوام کے تحفظات دور کیے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا ۔ صوبائی حکومت کا گلہ ہے کہ سی پیک سے کئی اہم منصوبے نکال دیے گئے ہیں ۔ سی پیک کے منصوبوں کو پردوں میں چھپانا اور گردو غبار کی نذر کرنے کے بجائے اس پر صوبے کی منتخب قیادت کو اعتماد میں لیا جائے اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو اس کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا جائے اور نکالے گئے منصوبوں کو دوبارہ شامل کیا جائے ۔وفاق کی طرح صوبے کی حکومت کا طیارہ بھی رن وے پر بھاگ تو رہاہے مگر اڑان بھرنے سے قاصر ہے یوں لگتاہے کہ حکومتی گاڑی ایک ہی جگہ رکی ہوئی ہے اور اس کے چاروں پہیے مختلف سمتوں میں گھوم رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے کوئٹہ میں جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی اور صوبائی میڈیا کوآرڈی نیٹر عبدالولی خان شاکر بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھا سکی ۔ صوبے کے گیارہ اضلاع کو بدترین خشک سالی کا سامناہے اگر اس مسئلے پر فوری قابو نہ پایا گیا تو لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے ۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ پانی کے مسائل سے دوچار ہے ۔ 35 لاکھ آبادی کے اس شہر کو شدید سردی میں پانی اور گیس کی قلت کا سامناہے ۔صوبے کے لاکھوں نوجوان بے روزگار ہیں ۔ بلوچستان پر ہمارے دشمن کی نظر ہے ۔ کلبھوشن کا یہاں سے پکڑا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کی شورش کے پیچھے دشمن کی سازشیں کارفرما ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اس وقت حکومت کے خلاف نہ کوئی تحریک ہے اور نہ تحریک کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت سہمی ہوئی ہے ۔ حکومت کی کوئی سمت نہیں ۔ حکومت کی چار ماہ کی معاشی پالیسیاں ناکا م ترین پالیسیاں ہیں ۔ معاشی افلاطونوں نے روپے کو کاغذ کا ایک بے وقعت ٹکڑا بنادیاہے ۔ نیب کی کارکردگی پر حکومت اور سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں ۔ سپریم کورٹ کہتی ہے کہ نیب نے اپنے کام کی بجائے دوسرے بہت سے کام سنبھال رکھے ہیں ۔ ہم نے پانامہ کے دیگر 436 ملزموں کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر رکھی ہے مگر آج تک انہیں سپریم کورٹ نے بلایا نہ نیب نے طلبی کا کوئی سمن جاری کیا ۔ انہوں نے کہاکہ نیب خود قابل احتساب ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے قومی اسمبلی میں ڈاکٹر رمیش کمار کی طرف سے شراب پر پابندی کے بل کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیوں کے واک آﺅٹ کو شرمناک اور قرآن و سنت کی تعلیمات اور آئین کے تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس پر چیف جسٹس کو فوری طور پر از خود نوٹس لینا چاہیے ۔ چیف جسٹس قوم کو بتائیں کہ جن ممبران نے شراب پر پابندی کے بل کی مخالفت کی ہے کیا وہ 62-63 پر پورا اترتے ہیں ۔ یہ چیف جسٹس کا امتحان ہے ۔ تینوں بڑی پارٹیاں قبل از یں آسیہ مسیح کیس میں بھی اکٹھی ہوگئی تھیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں