158

مقبوضہ کشمیر کی نوجوان قیادت حصول آزادی کی تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے پرعزم ہے:کل جماعتی حق خودارادیت کشمیر کانفرنس

لاہور (پاکستان اپ ڈیٹس )مقبوضہ کشمیر کے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کر کے بھارت ریاستی دہشتگردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ 1947ءسے لیکر ابتک 5لاکھ سے زائد کشمیری تحریک آزادی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں ، دوسری جنگ عظیم کے بعد اتنا ظلم کسی خطے میں نہیں ہو ا اور یہاں مسلسل ہولو کاسٹ ہو رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی نوجوان قیادت حصول آزادی کی تحریک کو کامیاب بنانے کیلئے پرعزم ہے اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں اپنی منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے۔ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں موجود اپنی سات لاکھ فوج کو فوراً مقبوضہ وادی سے نکالے اور کشمیریوں پر ہونیوالے مظالم کا سلسلہ بند کرے۔ مسئلہ کشمیر کو پاکستان کی سلامتی کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار صدر آزاد جموں کشمیر سردار محمد مسعود خان نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ‘ شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں منعقدہ ” کل جماعتی حق خودارادیت کشمیر کانفرنس“کے دوران بطور مہمان خاص اپنے خطاب میں کیا۔ کانفرنس کا اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیاتھا۔ اس موقع پر سابق چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت اور وائس چیئرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ جسٹس (ر) خلیل الرحمن ،صدر کشمیر ایکشن کمیٹی جسٹس (ر) شریف حسین بخاری،صدر ملی مسلم لیگ پروفیسر سیف اللہ خالد، ممتاز دانشور سلمان غنی، معروف کالم نگار ڈاکٹر محمد اجمل نیازی ، صدر نظریہ پاکستان فورم آزاد کشمیر مولانا محمد شفیع جوش، صدر پاکستان مسلم لیگ آزادکشمیر (پنجاب) سید نصیب اللہ گردیزی، سیکرٹری جنرل علماءکونسل منہاج القرآن میر آصف اکبر، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر (لاہور) اعجاز احمد کیانی، صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر ( لاہور) فاروق خان آزاد، جموں کشمیر وکلاءمحاذ کے رہنما سید منظور حسین گیلانی ، نمائندہ آل پارٹیز حریت کانفرنس انجینئر مشتاق محمود، ڈائریکٹر کشمیر سنٹر سردار محمد عظیم سرور، گلڈ آف اورئنٹس مسلم سکالرز برائے کشمیر امیر زمان طاہر، چیئرمین لاہور ہائی کورٹ بار کشمیر کمیٹی راجہ شیر زمان، جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر (پنجاب) ڈاکٹر احسن مظفر، صدر آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس (لاہور) اقبال ا حمد قریشی، بیگم صفیہ اسحاق، کاشف ادیب جاودانی ،تجمل گورمانی، کشمیری رہنماﺅں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بڑی تعداد میں موجود تھے۔تقریب کاباقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک‘ نعت رسول مقبول اور قومی ترانہ سے ہوا۔قاری خالد محمود نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے بارگاہِ رسالت مآب میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دیے۔ صدر آزاد جموں وکشمیر سردار محمدمسعودخان نے کہا تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے متفق و متحد ہیں۔ حق خودارادیت ہر انسان کا بنیادی اور پیدائشی حق ہے ، یہ ایک ایسا حق ہے جس سے تمام حقوق کو ستے پھوٹتے ہیں۔دنیا بھر میں متعدد اقوام کو حق خودارادیت کے تحت آزادی کی نعمت مل چکی ہے لیکن کشمیری تاحال اس حق سے محروم ہیں۔ کشمیر ایک اکائی ہے جس میں پانچ خطے گلگت بلتستان ، لداخ، جموں، وادی کشمیر اور آزاد کشمیر شامل ہیں۔ دنیا بھر میں موجود دو کروڑ کشمیری اقوام متحدہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمیں حق خودارادیت دیا جائے۔ کشمیریوں کا حق خوارادیت بھارت نے 27اکتوبر1947ءکو اس وقت سلب کر لیا جب اس نے جبراً کشمیر کے ایک حصے پر قبضہ کر لیا۔کشمیری پاکستان سے الحاق کے خواہاں تھے، سرحد کے آر پار کشمیریوں کے ازلی رشتوں کو ایک سازش کے تحت توڑا گیا لیکن اب یہ سازشیں ناکام ہوں گی۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی 71برس سے جاری ہے اور بھارت کسی لالچ اور دباﺅ دھمکی سے بھی کشمیریوں کو اپنے ساتھ نہیں ملا سکا ہے۔ کشمیری آج بھی انڈیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم آپ کو اپنا جائز حکمران نہیں سمجھتے کیونکہ بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ ایک ہفتہ قبل بھارت نے ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق 240جنگجوﺅں کو اس سال شہید کیا ، اس تناظر میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا240جنگجوﺅں کیلئے بھارت نے 7لاکھ فوج وہاں تعینات کر رکھی ہے۔ بھارت کشمیریوں کو شہید، آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش، سیاسی طور پر کشمیریوں کو تقسیم کرنے کی سازش اور بے انتہا مظالم کے باجود ابھی تک اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ آج تحریک آزادی اپنے جوبن پر ہے اور اس میں 19ماہ کی بچی بھی شامل ہو چکی ہے۔ 1990ءسے لیکر اب تک ایک لاکھ کشمیری جانوں کی قربانی دے چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد لا پتہ ہیں۔ اہل فکر و نظر کشمیریوں نے بھارتی جرائم کی ایک طویل فہرست مرتب کی ہے۔ آج دنیا کی بے حسی کا رونا تو رویا جا رہا ہے لیکن ہم میں سے ہر ایک اپنی کاوشوں کا جائزہ لے کہ کیا ہم کشمیریوں کا مقدمہ صحیح طور پر بین الاقوامی برادری کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ یہ ہم سب کا فرض ہے کہ انٹرنیشنل اداروں کا دروازہ کھٹکھٹائیں ۔71برس گزر جانے کے بعد آج بھی مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی قربانیوں اور پاکستان کی وجہ سے ہی زندہ ہے۔ 14جون 2018ءکو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور ابھی حال ہی میں برٹش پارلیمنٹ کی رپورٹ میں بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اہل جموں کشمیر کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی پیلٹ گنوں کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کا نظریہ ہے کہ کشمیریوں پر اتنا ظلم کرو کہ وہ برداشت نہ کر سکیں اور دنیا کے سامنے انہیں جنگجو کے طور پر پیش کرو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی حالیہ رپورٹ کی روشنی میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کےلئے ایک انکوائری کمیشن قائم کیا جائے جو حقائق دنیا کے سامنے پیش کرے ۔ اس مسئلہ کے چار فریق پاکستان ، بھارت، کشمیری اور اقوام متحدہ ہیں۔ اسے اسلام آباد اور دہلی تک محدود نہیں کرنا چاہئے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ بیانات سے کشمیریوں کی ڈھارس بندھی ہے ، بین الاقوامی برادری کے سامنے باضابطہ طور پر اس مسئلہ کو اٹھایاجا رہا ہے۔ ہم امن کے داعی اور مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ ہم سیاست اور سفارت پر یقین رکھتے ہیں۔ہم حق پر ہیں اور کامیابی ہمارا مقدر بنے گی۔ اہل جموں کشمیر نے یہ عزم کر رکھا ہے کہ مشکلات اور مصائب خواہ کتنے ہی زیادہ ہو جائیں ، بین الاقوامی برادری بے نیاز ہوجائے ہم آزادی لیکر رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونیوالا یہ ملک اپنے مسائل پر قابو پا کر بہت جلد دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں شامل ہوگا۔ہمیں اپنے آپ کو کمزور سمجھ کر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا جزو لازم ہے اور کشمیرکے بغیر پاکستان کا نامکمل ہے۔ کشمیری اپنی آزادی کیلئے لازوال قربانیاں دے رہے ہیں جو رائیگاں نہیں جائیں گی اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ضرور ملے گا۔ بھارت کشمیروں پر مظالم کا سلسلہ فوری بند کرے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کا پلیٹ فارم کشمیریوں کیلئے ہر وقت دستیاب ہے ۔ سلماں غنی نے کہا کہ کشمیریوں کی نئی نسل نے تحریک آزادی کو نئی روح بخشی ہے۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جس تحریک میں نوجوانوں کا خون شامل ہوجائے وہ کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے۔ برہان وانی کی شہادت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو مہمیز عطا کی ہے ۔ آج کشمیر کا ہر نوجوان بھارت کے سامراجی عزائم کے سامنے ڈٹ گیا ہے۔ عالمی برادری انسانی حقوق کی بات کرتی ہے لیکن کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی رنگ لائے گی۔ پروفیسر سیف اللہ خالد نے کہاکہ کشمیری قربانیوں کی لازوال داستان رقم کر رہے ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آزادی کا راستہ نہیں روک سکتی ہے۔ کشمیریوں کے خون کی یہ پکار ہے کہ ہم سب آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو جائیں اور کشمیریوں کو ان کا حق خوداردیت دلوائیں۔ مولانا محمد شفیع جوش نے کہا کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔کشمیری پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔ شاہد رشید نے کہا کہ بھارتی فوج کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے لیکن کشمیریوں کے جذبات ماند نہیں پڑے ہیں۔ کشمیر کی فضائیں ”پاکستان زندہ باد“ اور ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعروں سے گونج رہی ہیں ۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ مسلسل کشمیریوں کیلئے آواز بلند کر رہا ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر سے نکل جائے اور ظلم وستم کا سلسلہ بند کرے۔ آخر میں مولانا محمد شفیع جوش نے ابصار عبدالعلی ، ڈاکٹر اجمل نیازی کی والدہ اور بھائی کے ایصال ثواب ،شہدائے کشمیر کے بلندی درجات اور تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کیلئے دعا کروائی۔


کل جماعتی حق خود ارادیت کشمیر کانفرنس“ کے موقع پر قومی امنگوں کی ترجمان متعدد قراردادیں پیش کی گئیں
لاہور (پاکستان اپ ڈیٹس ) نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایوان کارکنان تحریک پاکستان ، شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں منعقدہ ”کل جماعتی حق خود ارادیت کشمیر کانفرنس“ کے موقع پر قومی امنگوں کی ترجمان متعدد قراردادیں پیش کی گئیں جنہیں حاضرین نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔اس کانفرنس کے مہمان خاص صدر آزاد جموں کشمیر سردار مسعود خان تھے۔ ایک قرارداد میں کہا گیا ہے 15 دسمبر 2018ءکو قابض بھارتی فوج کی طرف سے پلوامہ میں 14 کشمیریوں کو بے دردی سے شہید کرنے اور تقریباً 300 کشمیری مسلمانوں کو فائرنگ سے زخمی کرنے کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ ایک اور قرارداد میں قابض بھارتی فوج کی طرف سے کشمیری مسلمانوں کے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے باضمیر عالمی رہنماﺅں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھارت کی ان زیادتیوں کا نوٹس لے اور کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کے اقدامات کا سدباب کریں۔ ایک قرارداد میںمطالبہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں قید سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک، شبیر شاہ، مسرت عالم، آسیہ اندرابی، فہمیدہ اور نسرین بی بی کو فوری رہا کیا جائے۔ ایک قرارداد کے ذریعے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر غور و خوض کے لیے فوری طور پر سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلائیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل نمبر24 کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ایک اور قرارداد میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے پراسیکیوٹر سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھارت اور اس کی فوج کی جانب سے کشمیری مسلمانوں کے خلاف جنگی جرائم‘ نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا نوٹس لے اور 14 جون 2018ءکو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیری عوام کے انسانی حقوق کو پامال کرنے والے مجرموں کو کٹہرے میں لائے۔ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ہم کشمیر کے بہادر عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت تسلیم کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سلامتی کونسل بھی متعدد قراردادوںکے ذریعے ان کے حق خودارادیت کو تسلیم کر چکی ہے جسے پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی حکومتوں کی تائید حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں