175

سیکرٹری و چئرمین ساہیوال بورڈ کی کرپشن بے نقاب بورڈ کوچارکروڈ سے زائد کانقصان پہنچایا

ساہیوال (رپورٹ .رانامحمدیحییٰ فاروقی) آڈٹ رپورٹ 2017-18 کے مطابق ڈاکٹر ذوالفقار علی ثاقب نے حبیب بنک سے لاکھوں روپے رشوت لے کر حبیب بنک میں کم منافع پر جمع بورڈ کا تقریباایک ارب روپیہ انوسٹ نہ کرکے بورڈ کو منافع کی مد میں حاصل ہونے والے =/ 41075600روپے کانقصان اوربنک کو فائدہ پہنچایا۔ جبکہ فنانشل ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفیکیشن نمبر W & M (fd) 1-1/70-vol -v مور خہ 19-5-2003 کے تحت سیمی گورنمنٹ ادارے اپنا سرمایہ کسی اچھے بنک میں انوسٹ کرنے کے پابندہیں۔مگر موصوف نے حیلے بہانوں اورمکاری سے عرصہ تین سال سے بدنیتی کی وجہ سے حبیب بنک کو مالی فائدہ پہنچانے کیلۓ ایسانہ کیا۔غیر معیاری جوابی کاپیاں خریدکربورڈ کو /6724510 روپے کا نقصان پہنچا چکاہے اس بارے آڈٹ اعتراض تک التوامیں ہے تین سال سے حبیب بنک کو سیونگ اکاؤنٹ کی بجاۓ کرنٹ اکاؤنٹ میں بغیر منافع کروڑوں روپیہ رکھنے کی اجازت دے کر بورڈ کو منافع کی مد میں ملنے والے 2311219 روپے کا نقصان پہنچایا۔بورڈ ایکٹ کے مطابق بورڈ کے تمام مالی معاملات کاذمہ دار صرف سیکرٹری بورڈ ہے۔موصوف اوراسکے دست راست محمدافضل سپرنٹنڈنٹ پراور بھی بہت سے سیکنڈل اورکرپشن کے کیسز ہیں سپرنٹنڈنٹ محمدافضل نے ملتان بورڈ سے بھی لاکھوں کمائے لیکن چیئرمین کی سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ کوئی کاروائی نہ ہوسکی اس بارے ہائر اتھارٹی کومتعددبار مطلع کیا ہے مگرموصوف کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی اعلی حکام نوٹس لیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں