38

بچوں کے حقوق کی پامالی کرنے والوں کو شدید ترین سزائیں دی جانی چاہئیں: شہزادہ خالد

واشنگٹن(پاکستان اپ ڈیٹس)امریکا میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان نے باور کرایا ہے کہ “حوثی ملیشیا کا یمن میں بچوں کو بھرتی کرنا ایک بھیانک جرم ہے جس پر آج کے بعد خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ حوثی ملیشیا گھروں اور اسکولوں سے بچوں کو اٹھا کر رُسوا کن طریقے سے معرکوں میں جھونک رہی ہے۔ یہ تمام بین الاقوامی قوانین اور منشوروں کی خلاف ورزی اور انسانیت کے سادہ اصولوں کی پامالی ہے”۔ شہزادہ خالد نے یہ بات جمعرات کے روز اپنی ٹویٹ میں کہی۔ دوسری ٹویٹ میں سعودی سفیر نے کہا کہ “عرب اتحاد نے یمن میں لڑائی کے میدان میں ایسے بچوں کو پایا جن کو حوثی ملیشیا کی جانب سے بھرتی کیا گیا تھا۔ لہذا کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی جانب سے کئی پروگرام ترتیب دیے گئے جن کا مقصد ان بچوں کو دوبارہ سے اسکولوں میں پہنچانا، جنگ میں شرکت کے باعث ان کی نفسیات پر پڑنے والے منفی اثرت کا معالجہ کروانا اور بچوں کی بھرتی کے خطرات کے بارے میں یمنی خاندانوں اور گھرانوں کو آگاہی فراہم کرنا ہے”۔اپنی تیسری ٹویٹ میں شہزادہ خالد کا کہنا تھا کہ “مملکت سعودی عرب نے ایسے سیکڑوں بچوں کی نفسیاتی بحالی کو ممکن بنایا جو حوثی ملیشیا کے ہاتھوں جنگ میں جھونکے جانے کے سبب انتہائی منفی اثرات کا شکار ہو گئے تھے۔ مملکت نے اس امر کو واضح کیا کہ عالمی برادری اور بین الاقوامی میڈیا کو حوثیوں کے اس بھیانک جرم کے حوالے سے بھرپور موقف اپنانا ہو گا۔ بچوں کے حقوق کی پامالی کرنے والوں کو شدید ترین سزائیں دی جانی چاہئیں”۔انہوں نے اپنی چوتھی ٹویٹ میں مزید کہا کہ “سعودی عرب یمن میں بچوں کی بھرتی کو روکنے کے لیے بھرپور اور مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ ہم ایک بار پھر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی معرکے میں بچوں کی بھرتی کے انسداد کے لیے عالمی منصوبہ شروع کیا جائے۔ اس کا آغاز یمن سے کیا جانا چاہیے جہاں حوثی باغی روزانہ کی بنیاد پر بچوں کو بھرتی کر کے ان کے حقوق کی بدترین پامالی کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی میڈیا اس خطرناک پیش رفت کو روکنے کے سلسلے میں اپنا حقیقی کردار ادا کرے”۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں