216

غیر ملکی قرضوں کا حجم89ارب ڈالرز سے تجاوزکرنا تشویش ناک ہے: میاں مقصوداحمد

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے کہاہے کہ غیر ملکی قرضوں میں اضافہ تشویش ناک ہے۔اسٹیٹ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق غیر ملکی قرضوں کا حجم89ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے جوکہ لمحہ فکریہ ہے۔آئی ایم ایف کاقرضہ5ارب91کروڑ ڈالر تک پہنچنا حکمرانوں کی بدترین معاشی پالیسی کی عکاسی کرتاہے۔موجودہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔مہنگائی،بے روزگاری،لاقانونیت،دہشتگردی،غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ،میرٹ کی خلاف ورزی سمیت ایسے بیشمار مسائل ہیں جن کا حل ہنگامی بنیادوں پر نکالنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزمنصورہ میںعوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے میگااسکینڈلزآہستہ آہستہ میڈیا میں آرہے ہیں۔آشیانہ ہاﺅسنگ میں من پسند افراد کو ٹھیکہ دے کر نوازاگیا،مخصوص افراد کونوازنے کی ایسی اوربھی بہت ساری مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔حکمرانوں کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے عوام میں اضطراب پایاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ نیب کی جانب سے نجی پاورکمپنیوں کوگردشی قرضوں کی مد میں480ارب روپے کی ادائیگیوں میں165ارب کی ادائیگی کو غیر ضروری جبکہ32ارب کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے وفاق سے ریکارڈکی طلبی خوش آئند ہے۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں بلاتفریق احتساب چاہتی ہے۔2018کے انتخابات میں بھرپور انداز میں حصہ لیں گے،کارکن تیاری کریں۔انہوں نے کہاکہ کرپشن کے الزام میں گرفتار احدچیمہ کی گرفتاری پر پنجاب بیوروکریسی کااحتجاج اس بات کاواضح ثبوت ہے کہ بیوروکریسی بھی مسلم لیگ(ن) کاسیاسی”ونگ“ بن چکی ہے۔حکمرانوں کی آشیرباد سے کرپٹ افسرشاہی نے ایماندارافسران کے راستے میں ہمیشہ روڑے اٹکائے ہیں اور ان کے کاموں میں دشواری پیداکی ہے۔میاں مقصوداحمد نے مزید کہاکہ ناکام حکومتی پالیسیوں سے عوام کی مشکلات میں اضافہ اور ملکی وقار مجروح ہواہے۔یوں محسوس ہوتاہے جیسے حکمرانوں کو کرپشن اور لوٹ مار کے سواکوئی کام نہیں۔قومی خزانہ خالی اور حکمرانوں کے ذاتی اکاﺅنٹس دن بدن بھرتے چلے جارہے ہیں جبکہ ملکی معیشت تباہ وبرباد ہوچکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں