44

میڈیا ہاﺅسز سے ورکرز کی جبری برطرفیوں اور تنخواہوں میں کٹوتی کے خلاف احتجاجی تحریک کا پہلا روز

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )لاہور پریس کلب کی جنرل کونسل کے فیصلے کے مطابق صحافتی اداروں سے ورکرزکی جبری برطرفیوں اور تنخواہوں میں کٹوتیوں کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی تحریک کے سلسلے کا پہلا احتجاجی کیمپ لاہور پریس کلب میں لگایا گیا جس میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی احتجاجی کیمپ میں سیاہ بینرز بھی آویزاں کئے گئے۔ مقررین نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف میڈیا ہاﺅسز سے گذشتہ 4 ماہ کے دوران سینکڑوں ورکرز کو بے روزگارکیا گیا اور چالیس فیصد تک تنخواہوں میں کٹوتی کردی گئی ہے جبکہ مالکان سارا ملبہ حکومت پر ڈال رہے ہیں اور حکومت سارا ملبہ مالکان پر ڈال رہی ہے، تاہم صحافی کارکن یہ سمجھتے ہیں کہ حکومتی ذمہ داران اور میڈیا مالکان گٹھ جوڑ صحافیوں کے معاشی قتل عام کے ذمہ دار ہیں اس لئے تاحال پر امن رہتے ہوئے اپیل کی جاتی ہے کہ کارکنوں کے روزگار کو تحفظ دیا جائے اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ احتجاجی کیمپ کے ساتھ ٓ ائندہ چند روز میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی اپنے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی جس میں بڑے احتجاج کی کال دی جائے گی۔

sdr
dav

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں