62

مسلمانوں کیخلاف شروع کی گئی جنگ اختتام پذیر ہو رہی ہے، نام نہاد دانشور مایوسیاں مت پھیلائیں: پروفیسر حافظ محمد سعید

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ نام نہاد دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کیخلاف شروع کی گئی جنگ اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ یہ بہت بڑا مرحلہ اور نتائج سمیٹنے کا وقت ہے۔ نام نہاد دانشور مایوسیاں مت پھیلائیں۔ میڈیا کو اس وقت حالات کا صحیح رخ پیش کرنا چاہیے۔اس سے امیدیں پیدا ہوتیں اور قوموں کی تربیت ہوتی ہے۔ آنے والا دور اسلام اور مسلمانوں کا ہے۔ حکمران جراتمندانہ پالیسیاں ترتیب دیں۔ مظلوم کشمیری و فلسطینی مسلمانوں کو جلد آزادی ملے گی۔افضل گورو اور مقبول بٹ جیسے شہداءکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ بے گناہ کشمیریوں کو پھانسیاں اور تاحیات عمر قید کی سزائیں دیکر تحریک آزادی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران انہوں نے کہاکہ نائن الیون کے بعد پچھلے اٹھارہ برس مسلمانوں کیلئے بہت مشکل تھے۔ یہودیوںنے شہ ملنے پر مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کو بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنایا اور غزہ میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا گیا۔ مسلمانوں کو بہت تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔اس دوران انڈیا کو بھی شہ ملی‘ اس نے امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھایااور وطن عزیز پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ذریعہ یہاں کی اسلام پسند جماعتوں پر پابندیاں لگائی گئیںاورکشمیر کی تحریک کو دہشت گردی قرار دیا گیا۔اسی طرح حالات سے فائدہ اٹھا کر انڈیا میں بھی نہتے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور مسلم خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کیخلاف نام نہاد دہشت گردی کا پروپیگنڈہ کر کے اسلام اور مسلمانوں کیخلاف جنگ مسلط کی گئی لیکن حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی پیش کی گئی قربانیوں کو کسی طور ضائع نہیں کرتا۔ انہوںنے کہاکہ یہ نویں صلیبی جنگ ہے جس کا اختتام امت مسلمہ کے شاندار مستقبل کی نوید ہے۔دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ اتحادی ملک صلیبی جنگ ہار چکے ہیں اور انہیں افغانستان میں بدترین شکست ہوئی ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے مخلص بندوں کی قربانیاں قبول کی ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس قوت اور وسائل نہیں تھے لیکن منظم حکومتوں اور فوجوں کے دور میں بھی اللہ تعالیٰ نے کمزور مسلمانوں کو کامیابیوں سے نوازاہے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ امریکہ مجبور ہو کر طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے اور بحفاظت واپسی کیلئے پاکستان کی منتیں کی جارہی ہیں۔ افغانستان سے جو لوگ ہجرت کر کے آئے پاکستان نے اسلامی اخوت کی بنیا دپرچالیس سال تک ان کی خدمت کی۔ اللہ نے پاکستانی مسلمانوں کے یہ جذبے قبول فرمائے ہیں اور حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ مسلم حکمران اپنی معیشت بہتر بنائیں، سیاست کے افق پر مضبوط انداز میں کھڑے ہوں اور بیرونی قوتوں سے امیدیں وابستہ کرنا چھوڑ دیں۔انہوںنے کہاکہ خلیج اور وسط ایشیاءسمیت 60مسلمان ملکوں کو اللہ تعالیٰ نے تیل، معدنیات اور ہر قسم کے ذخائر سے نواز رکھا ہے لیکن مسلمان اپنی دولت کو سنبھال نہیں پا رہے اور اس پر صلیبی و یہودی قابض ہیں۔ مسلمانوں میں قرون اولیٰ والی سوچ و فکر پیدا کرنے اوراسی بنیاد پر تربیت کی ضرورت ہے۔ہم ایسا کرتے ہیں تو اسلام کا دور بہت جلدواپس آئے گا۔انہوںنے کہاکہ بیرونی قوتیں چاہتی ہیں کہ مسلم خطوں و علاقوں میں لڑائی، جھگڑے اور فسادا ت کی آگ بھڑکائی جائے۔ مسلمانوں کی قوت پارہ پارہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن دشمن کی یہ سب سازشیں ناکامی سے دوچار ہو ئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ مسلم حکمران جب دینی طور پر کمزور ہوںتو علماءکی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔فرقہ واریت ختم کر کے مسلم امہ کو کتاب و سنت پر متحد کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں