70

این آر او کے بعد کرپٹ لوگوں کا پکڑے جانے کا خوف ختم ہوگیا تھا، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد(پاکستان اپ ڈیٹس ) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ این آراو ون اوراین آر اوٹوکے بعد کرپٹ لوگوں کا خوف ختم ہوگیا تھا کہ وہ پکڑے جائیں گے۔ لائیو ریلوے ٹریکنگ سسٹم اور تھل ایکسپریس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سالوں میں لوگوں نے بلاخوف چوریاں کیں، 10 سال میں ملکی قرضہ 30 ہزار ارب ڈالر تک جاپہنچا، اور ماضی کی حکومتوں نے جو قرضے لیےاس کے باعث ہماری حکومت ایک دن کا سود 6 ارب روپے ادا کررہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ این آراو ون اوراین آر اوٹوکے بعد کرپٹ لوگوں کا خوف ختم ہوگیا تھا کہ وہ پکڑے جائیں گے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا، ہر ادارے میں کرپشن کے کیسز نیب کو بھجوائیں گے، اس طرح لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا ہوگا اور کرپشن کرتے ہوئے سوچیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ حج پر سبسڈی دینے کی بات کرنے والے بتائیں کہ انہوں نے ملکی خزانے میں چھوڑا کیا ہے، اگر حالات اچھے ہوں تو ہم حج پر جانے والوں کو مفت بھیجیں، لیکن ماضی میں ہر علاقے اور ہر ادارے میں چوری اور کرپشن ہوئی، اور اب سوچنا پڑتا ہے کہ کس ادارے پر کتنے پیسے خرچ کئے جائیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا شور مچایا جاتا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا ہے کہ گیس کی قیمت اس لئے بڑھائی گئیں کہ گیس سیکٹر پر 157 ارب روپے کے قرضے ہیں اور بینکوں نے اسے مزید قرضے دینے سے انکار کردیا ہے، جب کہ 50 ارب روپے کی گیس چوری بھی کی جاتی ہے، گیس کی قیمتیں نہ بڑھاتے توگیس کمپنیاں بند ہوجاتیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کرپشن کو روکنا ہے چوری ختم کرنی ہے اور اپنے اخراجات کو کم کرنا ہے، پہلے وزیراعظم ہاؤس میں کھانے کھلائے جاتے تھے لیکن اب صرف چائے اور بسکٹ سے ہی تواضع کی جاتی ہے، اور وزیراعظم ہاؤس کے خرچے 30 فیصد کم کردیئے گئے ہیں، جب کہ اپنے ہر وزیر سے کہا ہے کہ وہ بھی اپنے اخراجات میں 30 فیصد نہیں تو کم از کم 10 فیصد کمی ضرور لائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹرین عام آدمی کا سفر ہے،ماضی میں تمام سہولیتں امیروں کو ہی فراہم کی گئیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ نئے پاکستان میں لوگوں کو غربت سے نکالیں، اور اپنے ریلوے سسٹم کو بہت آگے لے کر چلیں، چین اس حوالے سے بہت آگے ہے، چاہتے ہیں چین سے ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کریں۔ پہلے سی پیک ایک سڑک ،چارپاوراسٹیشنوں کا نام تھا، اب سی پیک کے تحت چین کےساتھ متعدد شعبوں میں کام کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں