124

مودی صبح و شام دھمکیاں دے رہاہے اور جنگ کی تیاری کر رہاہے جبکہ ہماری حکومت ایک آدھ بیان دینے کے بعد سو جاتی ہے:سینیٹر سراج الحق

اسلام آباد (پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ مودی صبح و شام دھمکیاں دے رہاہے اور جنگ کی تیاری کر رہاہے جبکہ ہماری حکومت ایک آدھ بیان دینے کے بعد سو جاتی ہے ۔ پاکستان کی سا لمیت کے تحفظ اور دفاع کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور آل پارٹیز کانفرنس بلا کر قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد دشمن کو ایک واضح پیغام جانا چاہیے تھا لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔او آئی سی کے اجلاس میں پہلی بار بھارت کو مہمان خصوصی کے طور پر دعوت دی گئی ہے ۔اب بھارت کی وزیر خارجہ عالم اسلام کے نمائندوں سے خطاب کرے گی جو ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ تمام مسلمان ملک بھارت کے دباﺅ میں ہیں۔ جس کے خلاف شکایت ہے وہی ملک اجلاس کا مہمان خصوصی بنا بیٹھاہے۔ پاکستان کو احتجاجاً اس اجلاس کا بائیکاٹ کر نا چاہیے تھا ۔ حکومت نے مدینہ کی اسلامی ریاست کی بات کی تھی ۔ آج لوگ مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں ۔ کسی کا بجلی کا بل زیادہ آتاہے تو وہ بھی مدینہ کی ریاست کو کوستا ہے ۔ تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو لوگ مدینہ کی ریاست کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ حکمرانوں نے اپنے ہر وعدے کو مذاق بنا دیاہے جس سے لوگ سخت پریشان ہیں ۔ نیب قانون اور ضابطے میں رہتے ہوئے ملزموں کے خلاف کاروائی کرے جب تک کسی کے خلاف ثبوت نہ ہو ، اس کو گرفتار کرنا اس کی عزت کو پامال کرنے کے مترادف ہے ۔ چادر اور چا ر دیواری کا تقدس پامال کیا جائے تو لوگوں کے اندر نفرت پھیلتی ہے اور صوبائی تعصبات جنم لیتے ہیں ۔ ہر پاکستانی احتساب چاہتا ہے مگر حکومت احتساب کو سیاست کی نذر کر رہی ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے سینیٹ اور اسلام آباد میں جماعت اسلامی شمالی پنجاب کی صوبائی لیڈر شپ ورکشاپ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ لیڈر شپ ورکشاپ سے جماعت اسلامی شمالی پنجاب کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اظہر اقبال حسن اور جماعت اسلامی راولپنڈی کے امیر شمس الرحمن سواتی بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے کوئی بھی خوش نہیں ۔ صوبوں کے اندر مرکز کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے ۔ اگر صوبائی تعصبات نے جنم لیا تو یہ قومی یکجہتی کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا ۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درا نی کو نیب نے اسلام آباد سے گرفتار کیا،یہ مناسب رویہ نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ پانامہ لیکس میں صرف نوازشریف کا نام نہیں تھا دیگر 436 ملزموں کے نام بھی تھے، لیکن حکومت نے ان 436 ملزموں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ انہوںنے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں موجود ان تمام لوگوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے جنہوں نے ملک کو لوٹا ہے یا اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دولت جمع کی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ملک آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا پہلے ہی مقروض تھا اب حکومت مزید قرضے لے رہی ہے ۔ حکومت خود انحصاری کی طرف قدم اٹھانے کو تیار نہیں ۔ پارلیمنٹ مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔ پالیسی سازی کا دور دور تک نام و نشان نہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں