211

سینیٹ الیکشن؛ پنجاب اور اسلام آباد میں (ن) لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب

اسلام آباد(پاکستان اپ ڈیٹس ) سینیٹ الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا اور اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے جبکہ غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پنجاب اور اسلام آباد میں (ن) لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں۔ سینیٹ کی 52 نشستوں پر 113 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ کامیاب امیدوار 6 سال کے لیے ملک کے ایوان بالا سینیٹ کے رکن منتخب ہوجائیں گے۔ قومی اسمبلی اور ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح 9 بجے پولنگ شروع ہوئی جو شام 4 بجے تک بلا تاخیر جاری رہی۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد اسمبلیوں کے دروازے بند کردیے گئے اور اب الیکشن کمیشن کا عملہ ووٹوں کی گنتی میں مصروف ہے۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پنجاب سے سینیٹ کی 12 میں سے 11 نشستوں پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں۔ جنرل نشست پر مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ ڈاکٹر آصف کرمانی، رانا مقبول احمد، زبیر گل، شاہین خالد بٹ ، مصدق ملک اور ہارون اختر کو کامیابی حاصل ہوئی۔ ٹیکنو کریٹ سیٹ پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور حافظ عبدالکریم کو فتح حاصل ہوئی۔ اقلیتوں کی نشستوں پر کامران مائیکل جبکہ خواتین کی نشستوں پر سعدیہ عباسی اور نزہت صادق کامیاب ہوئیں۔ ایک جنرل نشست پر رانا محمود الحسن اور چوہدری سرور کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ اسلام آباد سے جنرل نشست پر مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ اسد جونیجو اور ٹیکنوکریٹ پر مشاہد حسین سید کامیاب ہوگئے۔ سندھ سے جنرل نشست پر پیپلز پارٹی کے رضا ربانی، مولا بخش چانڈیو، محمد علی شاہ، مرتضیٰ وہاب جاموٹ کامیاب ہوگئے ہیں۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پیپلز پارٹی کے سکندر میندھرو کو کامیابی حاصل ہوئی۔ اقلیتی نشست پر پیپلز پارٹی کے انور لال ڈین اور خواتین کی مخصوص نشست پر پی پی پی کی ہی کرشنا کوہلی کامیاب ہوگئیں۔ بلوچستان سے آزاد امیدوار احمدخان اور صادق سنجرانی کامیاب ہوگئے ہیں۔ خیبرپختونخوا سے پاکستان تحریک انصاف کی مہرتاج روغانی کامیاب ہوگئی ہیں۔ فاٹا کے 4 امیدواروں کی کامیابی کا اعلان کردیا گیا ہے جن میں ہدایت اللہ ،ہلال الرحمن، شمیم آفریدی اور مرزا محمد آفریدی شامل ہیں۔ چاروں امیدوار آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے سات سات ووٹ حاصل کئے۔ قومی اسمبلی میں فاٹا کے 8 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا جبکہ 3 ارکان نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا جن میں غالب خان، قیصر جمال اور شہاب الدین شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی میں 294 ووٹ کاسٹ کیے گئے۔ ن لیگ کے 227 ارکان اور ایم کیو ایم کے 11 ارکان نے ووٹ ڈالے۔ اسلام آباد کی 2 نشستوں کیلیے 250 ووٹ کاسٹ ہوئے۔ بلوچستان اسمبلی میں تمام 64 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ پنجاب اسمبلی کے 368 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ سندھ اسمبلی میں 161 ووٹ ڈالے گئے۔ خیبرپختون خوا اسمبلی میں 122 ارکان اسمبلی نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ آخری ووٹ جماعت اسلامی کے محمد علی نے کاسٹ کیا۔ سینیٹ انتخابات میں چاروں صوبوں کی 7، 7 جنرل نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا، اسی طرح ہر صوبے سے خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی 2، 2 نشستوں پر امیدواروں کا چناؤ ہوگا، سینیٹ میں اقلیتوں کی 2، فاٹا کی 4 اور اسلام آباد کی 2 نشستوں کے لئے بھی مختلف جماعتوں کے امیدوار آمنے سامنے ہیں، اسلام آباد کی ایک نشست جنرل اور دوسری ٹیکنوکریٹ کے لئے مختص ہے، متعلقہ اسمبلی کے ممبران ترجیحی بنیادوں پر خفیہ رائے شماری دیں گے جس امیدوار کو زیادہ ترجیحی ووٹ ملیں گے وہ سینیٹر بن جائے گا۔ بلوچستان میں جنرل نشست پر سینیٹر کے انتخاب کے لئے 9 جب کہ ٹیکنوکریٹ اور خاتون نشست کے لئے 33، 33 ووٹ درکار ہوں گے۔ خیبرپختونخوا سے جنرل نشست پر سینیٹر بننے کے لئے اٹھارہ ووٹ درکار ہوں گے، ٹیکنو کریٹ اور خاتون کی مخصوص سیٹ کے لیے 62، 62 ووٹوں کی ضرورت ہو گی۔ سندھ سے جنرل نشست کے لیے 24 جب کہ ٹیکنوکریٹ اور خاتون کی نشست کے لئے 84، 84 ووٹ درکار ہوں گے۔ پنجاب سے ایک جنرل نشست کے لئے 53 ووٹ ڈالے جائیں گے، خاتون اور ٹیکنوکریٹ کی نشست کیلئے امیدواروں کو 186، 186 ووٹوں کی ضرورت پڑے گی۔ فاٹا کی چار نشستوں کے لئے قومی اسمبلی میں موجود 11 ارکان ووٹ دیں گے، ہر رکن چار امیدواروں کو ووٹ دے سکے گا، 5 یا اس سے زائد امیدواروں کو ووٹ دینے والے کا ووٹ مسترد کردیا جائے گا۔ سینیٹ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور6 ماہ سے 2 سال تک قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے، الیکشن کمیشن مجازہے کہ جرمانہ اور قید کی سزا ایک ساتھ سنا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں