322

صوبے کے حقوق کے لیے ہر ایوان میں آواز اٹھائیں گے: سینٹر سراج الحق

پشاور ( پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینٹر سراج الحق نے قبائیلی علاقوں اور خیبرپختونخوا کے صوبائی نظم کو ہدایت کی ہے کہ حقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں ۔ صوبے کے حقوق کے لیے ہر ایوان میںآواز اٹھائیں گے ۔حکومت نے قبائیلی علاقوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے ، این ایف سی میں 3 فیصد حصہ ، بے روزگاری کے خاتمے کا وعدہ کیالیکن اس جانب ابھی تک ایک بھی قدم نہیں اٹھایا۔پاکستان کے عوام امن پسند لوگ ہیں اور قبائیلی عوام نے پاکستان کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیںحکومت نے اس کے بدلے میں قبائیلی عوام کو کیا دیا ہے؟ ۔قبائلی عوام نے قائداعظم سے بغیر تنخواہ کے مغربی سرحد کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا اور 70سال سے وہ وعدہ نباہ رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام کے لیے کوئی یونیورسٹی نہیں بنائی گئی اور کوئی ہسپتا ل نہیں بنا۔ان علاقوں کے عوام مریض کو سینکڑوں کلومیٹر دور پشاور کے ہسپتالوں میں لاتے ہیں ۔ قبائلی عوام اپنے اور اپنی نئی نسلوں کے لیے اب آزادی چاہتے ہیں۔تعلیم اورروزگار چاہتے ہیں ۔صحت کی سہولیات چاہتے ہیں۔جماعت اسلامی نے قاضی حسین ا حمد کی قیادت میں قبائل کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ ہنگامی حالات اور ہر مشکل وقت میں جماعت اسلامی نے قبائلی بھائیوں کا ساتھ دیا۔وہ پشاور میں قبائیلی ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے ۔ کنونشن سے امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا سینٹر مشتاق احمد خان ، سابق سینئروزیر عنایت اللہ خان ، امیر جماعت اسلامی قبائیل سردار خان ، سابق ممبرقومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون الرشید ، قبائیلی اضلاع کے امراءاور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔ کنونشن میں بڑی تعد اد میں قبائیلی عوام نے شرکت کی ۔ سینیٹرسراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے قبائیلی عوام کے حقوق کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی اور یہ جدوجہد رکھے گی ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو تمام سیاسی جماعتوں نے منظور کیاتھا لیکن سابق اور موجودہ حکومتوں نے اس پر عمل درآمد نہیںکیا اور جب بھی نیشنل ایکشن پلان کی بات ہوتی ہے تو یہ مدارس ، مساجد کو تالے لگانے پر آجاتے ہیں اور علماءکرام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی اور پاکستان میںبھی مدارس اور مساجد کو بند کیا جارہا ہے جو اسلام دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے کیونکہ مدارس اور مساجد میں قرآن و سنت کی بات ہوتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہمقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی کے نام سے کام کرنے والی اسلامی تحریک کی تنظیم اور قیادت پر پابندی بالکل غلط اور انتقامی کاروائی ہے۔جماعت اسلامی جموں و کشمیر میں تعلیم،صحت،سماجی خدمات انسانی فلاح و بہبود کا کام کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سینٹ نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر آواز بلندکریں لیکن حکومت نے ابھی تک نہ کوئی آواز بلند کی ہے اور نہ پانبدیوں اور گرفتاریوں کی مذمت کی ہے ۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے رابطہ عوام مہم کا آغاز کردیا ہے جو قبائیلی علاقوں سمیت پورے ملک میں جاری رہے گی ۔ انہوںنے کہاکہ قبائیلی عوام اپنے حقوق کے حصو ل کے لیے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں دیانتدار قیادت کا ساتھ دیں اور ایسے لوگوں کو اسمبلی میں بھیجےں جو آپ کے حقوق کے لیے اسمبلی میں آواز اٹھائیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں