139

میثاق جمہوریت ہو یا کوئی نیا معاہدہ ، اس سے کوئی خیر برآمد نہیں ہوسکتا:سینیٹر سراج الحق

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ میثاق جمہوریت ہو یا کوئی نیا معاہدہ ، اس سے کوئی خیر برآمد نہیں ہوسکتا ۔ جن جماعتوں کے اپنے اندر جمہوریت نہیں ، وہ ملک و قوم کو کیا جمہوریت دیں گی ۔ جمہوریت کی باتیں محض عوام کو دھوکہ دینے، ایک دوسرے کی کرپشن پر پردہ ڈالنے اور حکومت پر دباﺅ بڑھانے کے لیے ہیں ۔ جماعت اسلامی 23 مارچ کو کراچی سے چترال تک ملک بھر میں پاکستان زندہ باد ریلیاں اور دفاع پاکستان مارچ کرے گی۔ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ہو یا مشرف حکومت ، عوام کے مسائل کم نہیں کر سکے ۔ موجودہ حکومت انہی ناکام لوگوں کا مجموعہ ہے یہی وجہ ہے کہ مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت میں کمی آنے کی بجائے مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ سابقہ حکومتوں کے مسافروں کے اکٹھاہونے سے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ عوام بار بار آزمائے ہوﺅں کو مزید آزمانے کی غلطی نہ کریں ۔ قوم کے پاس آخری آپشن صرف جماعت اسلامی ہے ۔ جماعت اسلامی حقیقی جمہور ی جماعت ہے جس کے کسی کارکن پر کرپشن کا کوئی دھبہ نہیں ۔ ان خیالات کاا ظہار انہوں نے منصورہ میں ہونے والی مرکزی تربیت گاہ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ناصرف نوازشریف بلکہ جیلوں میں بند ہر مریض کو علاج کی سہولت دینا حکومت کا فرض ہے ۔ صحت اور بیماری کو سیاست کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اپنا کوئی وعدہ بھی پورا نہیں کر سکی ۔ سات ماہ سے قومی اسمبلی میں شور شرابہ اور غل غپاڑہ ہورہاہے کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ۔ حکومت لوگوں کو روز گار دینے کی بجائے الٹا انہیں بے روزگار کر رہی ہے ۔ سعودی عرب سمیت دوست ممالک سے اربوں ڈالر امداد اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضوں کے باوجود مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو مرغی انڈے کا پراجیکٹ بھی روکنا پڑا ۔ انہوں نے کہاکہ زندگی کے ہر شعبہ میں ناکامی کا اصل سبب یہ ہے کہ حکمران خود کو عقل کل سمجھتے اور کسی کے ساتھ مشاورت کرنا ضروری نہیں سمجھتے ۔ کابینہ کے اجلاس ہوتے ہیں مگر پتہ چلتاہے کہ ہر وزیر اپنی مرضی کو ترجیح دیتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے بھارتی حملے میں بھارت کے دو طیارے گرانے کے بعد عوام پر مگ 21 سے مہنگائی کا حملہ کردیا۔ شورو غل میں حکومت کا خیال تھاکہ چپکے سے کیے گئے حملے کا عوام کو پتہ نہیں چلے گا لیکن مہنگائی کے مارے عوام کی چیخوں سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی ۔انہوں نے کہاکہ حکومت قوم کو بتائے کہ ایسی کیا مصیبت آ پڑی ہے کہ آپ نے عوام کا خون نچوڑنے کی ٹھان لی ہے اور بجلی گیس اور تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیاہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ بھارتی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی قومی یکجہتی کی فضا کو برقرار رکھنے اور مزید بڑھانے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کی ضرورت تھی مگر حکومت اس میں ناکام رہی ہے حکومت بار بار امریکہ کی طر ف دیکھ رہی ہے حالانکہ امریکہ نے آج تک پاکستان کا ساتھ نہیں دیا ۔ 65 ءاور 71 ءکی جنگوں میں امریکہ نے ہمیں دھوکہ دیا اور ایف سولہ طیارے خریدنے کے باوجود امریکہ نے پابندی لگادی کہ پاکستان ازلی دشمن بھارت کے خلاف یہ طیارے استعمال نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت قومی قیادت کو اعتماد میں لے اور اللہ کی طرف رجوع کرے بھارت سے ڈرنے یا امریکہ سے توقعات رکھنے کی ضرورت نہیں ۔ حکومت کا کام ہے کہ وہ قومی اتحاد کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے ۔ اگر اس اتحاد میں کوئی رخنہ پڑتاہے تو یہ حکومت کی ناکامی ہوگی ۔
سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر بھارت نے پابندی لگا کر ہمارے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بند کردیاہے اور سینکڑوں راہنماﺅں اور کارکنوں کو پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیاہے مگر ہماری وزارت خارجہ خاموش ہے اور وزیراعظم نے چپ کا روزہ رکھا ہواہے ۔ حکومت کو جماعت اسلامی پر پابندیوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں