26

دنیا میں جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کو ہوا دی گئی،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد(پاکستان اپ ڈیٹس ) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دنیا میں جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کو ہوا دی گئی اور اسلامو فوبیا نے امت مسلمہ کو نقصان پہنچایا۔اسلام آباد میں ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کو مسلمانوں کے قائد کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، ملائیشین وزیراعظم کا کرپشن سے متعلق موقف قابل تعریف ہے، کرپشن کسی بھی ملک کو کمزور کردیتی ہے اور کرپشن ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مہاتیرمحمد کے دورے سے بڑی خوشی ہوئی، پاکستان کا ملائیشیا کے ساتھ تاریخی رشتہ ہے، ملائیشیا مسلم ممالک کے لئے ہمیشہ رول ماڈل رہا اور ڈاکٹرمہاتیر محمد نے ملائیشیا کے حالات بہت بہتر کیے، جب کہ اردوان کے دورمیں ترکی کے لوگوں کے معاشی حالات بہتر ہوئے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا میں جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کو ہوا دی گئی اور اسلامو فوبیا نے امت مسلمہ کو نقصان پہنچایا اور دہشتگردی نے مسلمانوں کو بہت متاثر کیا جب کہ اسلامو فوبیا کی وجہ سے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچا، کرائس چرچ حملہ بھی اسلامو فوبیا کا نتیجہ ہے، نیوزی لیںڈ میں دہشت گرد نے معصوم افرد کے قتل کی ویڈیو بنائی۔بعدازاں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا دورہ پاکستان ہمارے لیے باعث فخر ہے،مہاتیر محمد نے مسلم ممالک میں ملائیشیا کورو ماڈل بنایا، ملائیشیا کی ترقی اسلامی دنیا کے لیے روشن مثال ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ملائیشیا کو ترقی یافتہ بنانے میں ڈاکٹر مہاتر محمد کا نمایاں کردار ہے جنہوں نے اپنے ملک کو بدل کررکھ دیا،اس میں کوئی شک نہیں کہ مہاتیر محمد ن کی قیادت میں ملائیشیا نے خود کفالت حاصل کی اس لیے پاکستان بھی ملائیشین وزیراعظم کے تجربے سے استفادہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔اس موقع پر ملائیشیا کے وزیراعظم نے سرمایہ کاری کانفرنس کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک تجارت کا فروغ چاہتے ہیں،تاجروں کے لیے مواقع پیدا کرنا بہت ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے سوا ملائیشیا کا کوئی دشمن نہیں، ہم نے کبھی کسی قسم کے اسرائیل سے تعلقات نہیں رکھے، اسرائیل کے سوا ملائیشیا کے تمام ممالک سے اچھے تعلقات ہیں اور ہم دوسرے ممالک سے نہ صرف اچھے تعلقات چاہتے ہیں بلکہ تجارت میں بھی اضافہ چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں