95

پاکستان کا قیام جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت تھا، اختلافات بھلاکر تعمیروترقی کیلئے ملی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا: ڈاکٹر علامہ سید ایاز ظہیر ہاشمی

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی کے فیڈرل چیئرمین ڈاکٹر علامہ سید ایاز ظہیر ہاشمی نے کہا ہے کہ 23مارچ تجدید عہد وفا کا دن ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ ملک لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اسلام کے امن و برداشت اور انسانیت سے محبت کے اصولوں کو اپنا شعار بنایا جس سے ناصرف مسلمانانِ ہندبلکہ بر صغیر میں رہنے والی دیگر اقلیتیں بھی متاثر ہوئیں اور مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے مطالبے کی تحریک میں شامل ہو گئیں۔پاکستان کا قیام جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت تھا۔ اختلافات بھلاکر تعمیروترقی کیلئے ملی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔وہ مقامی آڈیٹوریم میں یوم پاکستان کے حوالہ سے ہونے والے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر چوہدری ارشد گجر، سید یوسف کاظمی، نسیم الحق زاہدی، ملک کاشف اعوان و دیگر نے خطاب کیا۔ علامہ ایاز ظہیر ہاشمی نے کہاکہ 23 مارچ کا دن برصغیر کی تاریخ میں ایک منفرد اور خاص مقام رکھتا ہے۔ آج کے دن جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں لاہور میں اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کے حصول کے لیے جدو جہد کرنے کا عہد کیااور قرار دادِ لاہور منظور کی جسے بعد میں قرار دادِ پاکستان کا نام دیا گیا۔اس قرار داد نے مسلمانوں کو نئی سمت اور سوچ دی اور تحریکِ آزاد ی کو ایک نیا جوش ا ور ولولہ بخشا۔انہوں نے کہا کہ قرار دادِ پاکستان نے آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونکی اور مسلمانوں کو عظیم مقصد کے حصول کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا۔ یہ ایک ایساواقع تھا جس نے برِ صغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ قرار داد ِ پاکستان کی روشنی میں ہی ملک میں معاشی اور سماجی انقلاب لانا ممکن ہے۔انہوں نے یوم پاکستان کے موقع پر اختلافات بھلاکرتعمیر وترقی کیلئے ملی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، ملک کی حفاظت ہمارا قومی فریضہ ہے۔یومِ پاکستان ہمیں تحریک پاکستان کی قربانیوں کی یاددلاتاہے کہ ہمارے آباو اجداد نے بہت قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا۔علامہ ایاز ظہیر ہاشمی نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ان کی مدبرانہ قیادت اورمقصد کے حصول سے سچی لگن کاکمال تھا کہ قرار دادِ پاکستان کی منظوری کے صرف سات سال کے قلیل عرصے میں بر صغیر کے مسلمان ایک پر امن جدو جہد کے ذریعے تمام تر مشکلات و مصائب کے باوجود اپنے لیے ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔آج کے دن ہمیں بحثیت مجموعی باہمی اختلافات کو بھلا کرملک کی تعمیر و ترقی کے لیے قائد کے اتحاد، ایمان اور تنظیم کے رہنما اصولوں کو اپنانا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ عہد بھی کرنا ہو گاکہ ان مقاصد کے حصول جن کے لئے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر ممکن جدو جہد کریں گے اور پاکستان کو مضبوط اور خوشحال ملک بنائیں گے جہاں عوام کی امنگوں کے مطابق، مساوات، انصاف اور بھائی چارے کی حکمرانی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں