482

جماعة الدعوة ، فلاح انسانیت فاونڈیشن کے اثاثے منجمد کرنے کے خلاف عدات میں درخوات دائر

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے جماعة الدعوة اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاونڈیشن کے اثاثے منجمد کرنے کے خلاف حافظ سعید او وفاقی حکومت کی متفرق درخواستوں کو 18 اپریل کو سماعت کے لیے مقرر کردیا۔ ہائیکورٹ کے جسٹس امین الدین خان نے وفاقی حکومت کی متفرق درخواست پر جماعة الدعوة اور فلاح انسانیت کے اثاثے منجمد کرنے کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹنٹ اٹارنی جنرل سعدیہ ملک عدالت میں پیش ہوئیں۔
انہوں نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ تنظیم کے سربراہ حافظ سعید نے جماعة الدعوة اور فلاح انسانیت کے اثاثے حکومتی تحویل میں لینے کے اقدام کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے۔اسٹنٹ اٹارنی جنرل سعدیہ نے عدالت کو مزید بتایا کہ عدالت نے اس کیس میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو نوتس جاری کررکھے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کیس انتہائی اہم ہے، اٹارنی جنرل آف پاکستان اس کیس میں خوش پیش ہونا چاہتے ہین جبکہ وہ 16 اپریل کو مسروفیت کے باعث پیچ نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ حافظ سعید کی درخواست کی سماعت کے لیے کوئی اور تاریخ مقرر کی جائے، جس پا عدالت عالیہ نے مرکزی کیس کو 18 اپریل کو سماعت کے لیے مقرر کردیا۔خیال رہے کہ 4 مارچ 2019 کو وفاقی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے پابندی کے شکار افراد اور تنظیموں کو کنٹرول میں لے کر ان کے اکاونٹ منجمد کرنے کے لیے سلامتی کونسل آرڈر 2019 جاری کیا تھا۔جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے حماد اظہر اور مفتی عبدالروف سمیت کالعدم تنظیموں کے 44 افراد کو اصلاحی حراست میں لے لیا تھا۔
ایک کانفرنس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے کہا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے رہنماوں اور کارکنان کو حراست میں لینے کا فیصلہ پاکستان کا ہے اور یہ کارروائی آئندہ 2 ہفتوں تک جاری رہے گی جبکہ اس کی تفصیلات تمام متعلقہ اداروں کو بھی فراہم کی جائے گی۔بعد ازاں 6 کو وفاقی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں صوبہ سند، پنجاب، بلوچستان اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں متعلقہ حکومتوں نے کالعدم تنظیم جماعة الدعوة (جے یو ڈی) اور اس کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاونڈیشن کے کئی مدارس اور اداروں کو اپنے انتطام میں لے لیا تھا یا پھر سیل کردیا تھا۔اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ماتحت محکمہ اوقاف نے وفاقی دارالحکومت میں کالعدم تنظیموں کے زیر انتظام مساجد ومدارس کا انتظام سنبھال لیا۔
اس سے ایک روز قبل چکوال کے مختلف علاقوں میں جماعة الدعوة کے تحت چلنے والے مدرسوں اور اس کے اسٹاف کو وفاقی محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا تھا جس میں تلہ گنگ میں مدرسہ خالد بن ولید اور چکوال ریلوے روڈ میں مدرسہ دارالسلام شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں