25

مہنگائی سے عوام کی آنکھیں کھل گئیں،سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں : پیر معصوم نقوی

لاہور (پاکستان اپ ڈیٹس ) جمعیت علما پاکستان نیازی کے سربراہ قائد اہل سنت پیر سیدمحمد معصوم حسین نقوی نے مہنگائی میں ہوشربا اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اپنے وعدوں کے مطابق عوا م کو ریلیف فراہم کرے اورحکومتی نااہلی کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ڈرامے بازیاں بند کرے۔جے یو پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فائزہ نقوی کی قیادت میں وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کی آنکھیں کھل گئی ہیں ۔ انہیں سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکمرانوں میں کوئی فرق محسوس نہیں ہورہا۔ وزیر اعظم عمران خان مہنگائی کم کرکے غریب عوام کی بد دعاوں سے بچیں۔یہ معنی خیز ہے کہ وفاقی وزرا جون میں آنے والے بجٹ کے بعد کی مہنگائی سے لوگوں کو ڈرا رہے ہیں اور تضحیک کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں کہ وہ شکر ادا کریں کہ پٹرول کی قیمتوں میں12 کی بجائے صرف چھ روپے کا اضافہ کیا ہے اوریہ کہ جون میں آنے والے بجٹ کے بعد عوام کی چیخیں نکل جائیں گے۔کیا یہی سقراط اور افلاطون وزیر خزانہ اسد عمر ہیں، جو حکومت بننے سے پہلے سے منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام سابقہ حکمرانوں کی ناانصافیوں کرپشن سے تنگ تھے تو موجودہ حکومت نے بھی ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔ آج تک جتنی بھی حکومتیں آئیں ہیں انہوں نے آئی ایم ایف کے ایجنڈے کے مطابق ہی ملک کو چلایا ہے۔ آئی ایم ایف کے خلاف تو وزیراعظم عمران خان ا پوزیشن میں تھے تو جلسے کر رہے تھے۔انہوں نے مہم چلائی کہ وہ ایم ایف سے قرضے نہیں لیں گے لیکن باقی یو ٹرنوں کی طرح اس دعوے پر بھی دعوے کئے جاتے رہے ہیں۔ لیکن یوٹرن پالیسی کے تحت اب کہا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ آخری پروگرام ہوگا۔ معصوم نقوی نے کہا ہے کہ ہرسیاسی جماعت برسر اقتدار آنے سے پہلے خوش حالی اور ترقی کے سبز باغ دکھا تی ہے اور اس کے بعد ان کو اسی طریقے سے رکھا جاتا ہے جیسے کہ سابقہ حکومتوں کا وطیرہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسد عمر خود کو بہت بڑا ماہر اقتصادیات کہلاتے ہیں اور عمران خان ان پر بڑا فخر کرتے تھے اور یہ وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں پہلے سے پتہ تھا کہ انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا جائے گا۔اوریہ فخریہ کہا جاتا رہا کہ انہوں نے ملکی مالیاتی پالیسیوں کے لئے اس کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے لیکن بتایا جائے کہ وہ منصوبہ بندی کہاں گئی؟ کیاوہ منصوبہ بندی صرف عوام کو جکڑنے کے لیے کرتے رہے ہیں تو واقعی بہت اچھی منصوبہ بندی تھی کیونکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کہیں نظر نہیں آرہی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور اپنی ہٹ دھرمی سے پیچھے ہٹ کر عوام کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ دیں محض نعرے لگانے اور بڑھکیں مارنے سے مسائل حل نہیں ہوتے عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں