20

اپوزیشن جماعتوں کوحکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی ،پیر اعجاز ہاشمی

لاہور (پاکستان اپ ڈیٹس ) جمعیت علما پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیر اعجاز احمد ہاشمی نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو بد نام کرنے کے لیے نیب کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔اگرنیب ایک آزاد ادارہ ہے تو اسے آزادانہ کام بھی کرنے دینا چاہیے ۔پہلے وزیراعظم اور وزیر اطلاعات بیان دیتے ہیں اورپھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے قائدین میں سے کوئی نہ کوئی واقعی پکڑا جاتا ہے۔ نیب کا حمزہ شہباز کوگرفتار کرنے کی توہین آمیز کوشش اور آصف علی زرداری کے مقدمات کراچی کے بجائے راولپنڈی میں چلا ناسازش ہے ،جس کا حصہ نیب بن چکی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کو اب مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی جس کے لئے مہنگائی اور بیروزگاری نے زمین ہموار کردی ہے اور بجٹ میں مزید اقدامات سے یہ حکومت عوام کی واقعی چیخیں نکلوانا چاہتی ہے ۔مہنگائی کے خلاف عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو تحریک چلانی چاہیے۔ آئی ایم ایف کے ہاتھوں ملک کو یرغمال نہیں بننے دیں گے۔ بجلی گیس کی قیمتیں عوام کی برداشت سے باہر ہوچکی ہیں۔متحدہ مجلس عمل کے چند جلسوں نے حکمرانوں کی نیندیں حرام کردی ہیں، باقی سیاسی جماعتوں کو اپنی کارکنوں کی سطح پر تیاری کرنی چاہیے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بھی خاموشی توڑنی چاہیے۔سیاستدانوں کو اپنی عزت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے انڈیا کی طرف سے حملے کی پیشین گوئیاںکرنے کی بجائے عوام کو مہنگائی ،بیروزگاری اور بدامنی سے نجات دلائیں ۔اسلام آباد، راولپنڈی ،کراچی، لاہور پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں ڈکیتیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مگر ا فسوس کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی میں لگی ہوئی ہیں ۔وفاقی حکومت کا اختیار ہی نہیں کہ وہ صوبائی معاملات میں مداخلت کریں لیکن گورنر سندھ عمران اسمٰعیل بار بار اپنے بیانات میں اشتعال انگیزی پیدا کر رہے ہیں۔وزیراعظم کوزیب نہیں دیتا کہ وہ اپوزیشن کو اپنے جلسوں میں للکاریں اور مولانا فضل الرحمن کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کریں۔ ہم عمران خان کو پہلے بھی کئی بار مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ سیاسی اخلاقیات سیکھیں۔ جوشائستہ سیاست کا طرہ امتیاز ہے۔لیکن وزیر اعظم نے ثابت کیا ہے کہ وہ سیاستدان نہیں، عوام پر مسلط کر دہ شخص ہیں ، جس کی ڈور کسی اور جگہ سے ہلائی جاتی ہے۔ان اک کہنا تھاکہ جو معاشی بدحالی آئی ایم ایف کے ایجنڈے کے تحت پاکستان کی کردی گئی ہے ،لگتا ہے کہ عالمی ادارے عمران خان اور اسد عمر کے ذریعے اپنی وصولیاں یقینی بنانا چاہتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں