202

کشمیر کا مسئلہ دفاع پاکستان اور تکمیل پاکستان کی جنگ ہے۔پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )جماعةالدعوة سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی نے کہاہے کہ نظریہ پاکستان اور تحریک پاکستان سے انحراف بہت بڑا جرم ہے ۔ پاکستان فرقوں یا کسی خاندان کا ملک نہیں۔ اس کا ایک نظریہ ہے جو اس کی اساس، قوت اور وراثت ہے۔خوشحال اور پڑھا لکھا پاکستان کا نعرہ تو لگ رہا ہے مگر نظریہ پاکستان کی بات نہیں کی جارہی ۔کشمیر کا مسئلہ دفاع پاکستان اور تکمیل پاکستان کی جنگ ہے۔ بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں شکست کھا چکے‘ انڈیا بھی مقبوضہ کشمیر میں نہیں ٹھہر سکے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بٹ چوک تاجپورہ میں نظریہ پاکستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر تمام مکاتب فکراور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ مخلص اور محب وطن جماعة الدعوة کی دعوتی، رفاہی و فلاحی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ۔مگر یہ بات یاد رہے کہ اللہ کے دین پر نہ تو پا بندی لگائی جاسکتی ہے اور نہ ہی اسے روکا جا سکتا ہے۔ وطن عزیز ایک مشکل دور سے گزرہا ہے۔ حکمران کسی قسم کے دباﺅ میں نہ آئیںاور جرا¿تمندانہ انداز میں پالیسیاں ترتیب دیں۔نظریے کی قوت سے ہی بیرونی دباﺅ سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ حکمران بھارت و امریکہ سے عزت اور برابری کی سطح پر بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال رہے ہیں۔ آج اس موضوع پر بات ہی نہیں کی جاتی۔ ایسا نہ کرنا غیر قومی سوچ کا مظہر ہے اور وجہ صرف نظریہ پاکستان سے دوری ہے۔ کشمیری جو ذمہ داری ہم پر ڈال رہے ہیں وہ قبول نہ کرنا افسوسناک ہے۔عبدالرحمن مکی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آج ہمارے ملک میں نظریہ کی نفی کی جارہی ہے۔ سازش کے تحت نوجوانوں کو نظریہ پاکستان سے دور اور گروہ بندیوں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا نے پاکستان میں دھماکے کروائے اور کلبھوشن جیسے دہشت گرد وطن عزیز پاکستان میں بھیجے گئے۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کو غیر محفوظ ملک قرار دیا جائے۔وہ ملک میں تکفیری گروہوں کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ یہ سب سازشیںاس لیے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کیا جاسکے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ انڈیا کا پاکستان میں منفی کردار دنیا کے سامنے کھل کر بیان کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اگر امریکہ سولہ سال تک کچھ نہیں کر سکا اور شکست کھا گیا تو انڈیا بھی کچھ نہیں کر سکے گا۔ چاہ بہار بندگاہ کا انڈیا کو ملنا ہماری سفارتی ناکامی ہے۔انہوںنے کہاکہ حکمران اللہ کی پکڑ کا شکار ہیں‘ انہیں چاہیے کہ وہ اللہ سے معافی مانگیں تاکہ اس کی رحمتوں کا نزول ہوسکے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ نظریہ پاکستان سے وفا کی جائے، پاکستان اسلامی ملک ہے یہاں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر ملک حاصل ہوا اسی نظریہ پر عمل کرنے سے ہی اس کا دفاع ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں