205

گردوں کی پیوند کاری مشکل طریقہ علاج . پیسوں کے علاوہ عوام میں آگاہی ہونا بھی ضروری ہے: پروفیسر ڈاکٹر محمد نذیر

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )ماہر امراض گردہ پروفیسر ڈاکٹر محمد نذیر کا کہنا ہے کہ گردے بچائیں زندگی بچائیں یہ وہ تھیم ہے جس کے تحت ہم آج گردوں کا عالمی دن منارہے ہیں ،پتھری،پراسٹیٹ اور انفیکشن کی وجہ سے گردوں کا فیل ہونا انتہائی دکھ کی بات ہے کیونکہ یہ وہ عوامل ہیں جن کا بروقت علاج کرواکے تندرست زندگی گزاری جاسکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ گردوں کی پیوند کاری ایک مشکل طریقہ علاج ہے اس کے لئے پیسوں کے علاوہ عوام میں آگاہی ہونا بھی ضروری ہے ان کا کہنا تھا کہ لاہور جنرل ہسپتال کا گردوں کی پیوند کاری کا سنٹر اسٹیٹ آف دی آرٹ ادارہ ہے جہاں وزیر اعلی پنجاب کے احکامات کی روشنی میں تمام علاج بلامعاوضہ کیا جاتا ہے اور ہمارا عزم ہے کہ مفت علاج عظمت کے ساتھ اور اب تک ہم گردوں کی پیوند کاری کے 2کامیاب آپریشنز کرچکے ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں مزید کیسوں پر کام جاری ہے ان باتوں کا اظہار انھوں نے گردوں کے عالمی دن کے موقع پر ریڈیو پاکستان لاہور کے خصوصی پروگرام میں کیا جس کے میزبان وپروڈیوسر مدثر قدیر تھے ان کا مزید کہناتھا کہ میری زندگی کا مشن صرف یہ ہے کہ انسانی گردے اپنا کام فعال طریقے سے کریں اور لوگوں کو ٹرانسپلانٹ کی طرف نہ جانا پڑے اور یہ اللہ کی طرف سے انسان پر احسان عظیم ہے کہ اس نے انسان کو 2گردے عطاکیے اگر ایک گردہ اپنا کام احسن طریقے سے نہ کرسکے تو دوسرے گردے پر ساری زندگی گزاری جاسکتی ہے ۔پاکستان سوسائٹی فار یورالوجی سرجنز کے صدر ڈاکٹر محمد نذیر کا اس موقع پر یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارا ملک کی آب وہوا گرم ومرطوب ہے جس کے باعث یہاں پر گردوں کی پتھری میں مبتلا مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے اگر متوازن غذااور روزانہ کی چہل قدمی کے انداز کو فروغ دیا جائے تو اس بیماری کا خاتمہ ممکن ہے اور گردوں کی پتھری کا علاج اب ایک کٹ سے ممکن ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایسے مریض بھی آتے ہیں جن کے 12انچ سائز کے گردے میں پتھری کا سائز بڑا ہوتا ہے جس کو ہم گرائنڈ کرکے باہر نکال دیتے ہیں اور مریض دوسرے دن اپنے گھر شفٹ ہوجاتا ہے ،شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں میں گردے فیل ہونے کی بیماری بھی عام ہے یاد رکھیں ان بیماری میں مبتلا لوگوں کو اپنے گردوں کے ٹیسٹ سال میں ایک دو مرتبہ ضرور کرالینے چاہیے ۔گردوں کے عالمی دن کے موقع پر بات کرتے ہوئے اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان لاہور نزاکت شکیلہ کا کہنا تھا کہ ریڈیو لاہور کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ اپنے سامعین تک انفارمیشن اور ایجوکیشن کے پروگرام پہنچائیں جائیں تاکہ لوگوں کو بیماری اور اس کے علاج کے بارے میں آگاہی ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں