270

حکمران آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضے لینا بند کریں اور قرآن و سنت کی روشنی میں پالیسیاں ترتیب دیں: پروفیسر حافظ محمد سعید

لاہور(پاکستان اپ ڈیٹس )امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بیرونی قوتیں پاکستان اور اس کے ایٹمی پروگرام کونقصان پہنچانے کی سازشیں کر رہی ہیں۔ رائیونڈ دھماکہ جیسی تخریب کاری و دہشت گردی کی وارداتوں میں دشمن قوتیں ملوث ہیں۔ نظریہ پاکستان کے تحفظ سے ہی ملک کا دفاع ممکن ہے۔ حکمران آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضے لینا بند کریں اور قرآن و سنت کی روشنی میں پالیسیاں ترتیب دیں۔ بھارت، امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے دوستیاں نبھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی عروج پر ہے۔ مظلوم کشمیریوں کو جلد آزادی مل کر رہے گی۔ جامع مسجد القادسیہ میں خطبہ جمعہ کے دوران انہوںنے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کا چاروں اطراف سے گھیراﺅ کیا جارہا ہے۔ جس طرح پاکستان کیلئے مشرق و مغرب سے خطرات کھڑے کئے جارہے ہیں اسی طرح سعودی عرب کو نقصانات سے دوچار کرنے کیلئے یمن میں بغاوت کھڑی کی گئی ہے ۔ پاکستان امت مسلمہ کا دفاعی مرکز اور سعودی عرب مسلمانوں کا دینی مرکز ہے۔ سعودی عرب میں مسلمانوں کے دو حرم بیت اللہ اور مسجد نبوی ہیں جن پر مسلمان متحد ہو سکتے ہیں‘ اسی لئے دنیائے کفر سرزمین حرمین شریفین کو نقصان پہنچا کر اس مرکزیت کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستان مضبوط قوت نہ بن سکے اور یہاں لوگ محکوم بن کر رہیں۔ وہ پاکستان کی اسلامی شناخت بھی ختم کرنے کے درپے ہیں۔دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان کا ایٹم بم انڈیا سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اس سے بہت تکلیف ہے اور وہ اس قوت کوہم سے چھیننا چاہتے ہیں۔ یہ ہے وہ مسئلہ جس کے گرداس وقت بین الاقوامی سیاست گھوم رہی ہے۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ اتحادی ممالک افغانستان میں شکست کا بدلہ پاکستان سے لینے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ سازش کے تحت تخریب کاری و دہشت گردی کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ رائے ونڈ دھماکہ بھی انہی سازشوں کا حصہ ہے۔حکمران بھارت، امریکہ اور ان کے اتحادیوں سے دوستیاں نبھانے کی کوششیں کر رہے ہیں اور انہیں مطمئن کرنے کیلئے بیانیے تبدیل کئے جارہے ہیں۔ مسلمانوں کا بیانیہ اللہ کا قرآن ہے۔ مسلمانوں کے مسائل کفار سے دوستی پروان چڑھانے سے حل نہیں ہوں گے ۔ یہ نہ پہلے کبھی آپ سے خوش ہوئے ہیں اور نہ بعد میں ہوں گے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے دباﺅ بڑھائے جارہے ہیں۔ اس وقت اسلام اور کفر کے درمیان جنگ جاری ہے۔ ہم نے اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کی جنگ لڑنی ہے۔ میڈیا اس وقت بہت بڑا ہتھیار ہے۔ ہمیں نظریہ پاکستان کی حفاظت کرنی اور نوجوان نسل کو دشمن کی سازشوں اور پروپیگنڈہ کا شکار ہونے سے بچانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں