232

ولادی میر پوتین چوتھی مدت ِ صدارت کے لیے 74 فی صد ووٹ لے کر کامیاب

ماسکو(پاکستان اپ ڈیٹس ) روس کے صدارتی انتخاب میں ولادی میر پیوٹن چوتھی بار واضح برتری کے ساتھ صدر منتخب ہوگئے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق روس میں نئے صدر کے لیے انتخابی عمل منعقد کیا گیا جس میں موجودہ صدر ولادی میر پیوٹن کے علاوہ 7 امیدوار میدان میں موجود تھے تاہم اس بار بھی پیوٹن کا پلڑا بھاری رہا۔ ایگزٹ پول کے مطابق ولادی میر پیوٹن نے 73.9 فیصد ووٹ لے کر فیصلہ کن برتری حاصل کرکے چوتھی بار بھی روس کا صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ روس میں صدارتی انتخاب کے لیے دنیا بھر سے 1500 سے زائد عالمی مبصرین ماسکو پہنچے جب کہ ہزاروں مقامی مبصرین بھی الیکشن کی کوریج کے لیے موجود رہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کو شفاف بنانے کے مکمل انتظامات کیے گئے۔ واضح رہے کہ موجودہ صدر ولادی میر پیوٹن 18 سال سے برسراقتدار ہیں۔ وہ 7 مئی 2012ء سے تاحال روس کے صدر ہیں۔ پیوٹن اس سے پہلے بھی 2000ء سے 2008ء تک صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ 1999ء سے 2000ء تک اور پھر 2008ء سے 2012ء تک روس کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔روس میں قریباً 10 کروڑ 70 لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل تھے۔روس کے مرکزی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 60 فی صد رہی ہے۔حزب اختلاف کے حامی اخبار نوایا گزٹا نے یہ الزام عاید کیا ہے کہ طلبہ ،سرکاری ملازمین اور نجی کمپنیوں ، اداروں میں کام کرنے والے افراد کو صدر پوتین کے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ الیکسئی نوالنی کے وکیل ایفان ژادنوف کا کہنا ہے کہ صداتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی حقیقی شرح 55 فی صد رہی ہے۔ان کی حزب اختلاف کی تحریک اور غیر سرکاری الیکشن مانیٹر گولوس نے کہا ہے کہ ولادی میر پوتین کے حامیوں کو بسوں میں لاد لاد کر پولنگ مراکز پر لایا جارہا تھا اور کئی افراد نے دو دو مرتبہ ووٹ ڈالا ہے۔اس کے علاوہ صدر کے حامیوں کی جانب سے خود ہی مہریں لگا لگا کر بیلٹ باکس بھرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ لیکن روس کے الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ انتخابی نگراں بعض اوقات جو کچھ دیکھتے ہیں ،اس کی غلط تشریح کرتے ہیں۔ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن غیر حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں