192

حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ مانگنے والے پہلے خود کو پاکستانی ثابت کریں اسکے بعد ہم سے حب الوطنی کی با ت کریں:آفاق احمد

کراچی(پاکستان اپ ڈیٹس )مہاجر قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین آفاق احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب کوئی یہ کہتا ہے کہ مہاجر کچھ نہیں ہوتا تو میں جو سندھیوں ، پختونوں، پنجابی اور بلوچ قوم کے لوگوں کو اپنا بھائی کہتا اور سمجھتا ہوں پوچھتا ہوں کہ جب یہ تمام قومیں اس ملک میں رہ سکتی ہیں تو مہاجر قوم کو کیوں برداشت نہیں کیا جاتا ۔ جس طرح دیگر قومیں ہیں مہاجر بھی اسی طرح ایک منفرد قوم ہے جسے تسلیم کئے بغیر ملک ترقی کرسکتا ہے نہ شہر ۔ آفاق احمد نے کہا کہ لسانی شناخت سے انکار کرنا ممکن ہی نہیں ہے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مہاجر شناخت ملک کیلئے مناسب نہیں ان سے ببانگ دہل کہتا ہوں کہ پہلے لسانی بنیادوں پر قائم صوبے ختم کرو پھر ہم سے مہاجر شناخت سے دستبردار ہونے کی بات کرو ۔ جب چاروں لسانی اکائیوں کی بات آتی ہے ہر کوئی کھڑا ہوجاتا ہے اور جہاں مہاجروں کی بات آتی ہے تو جسے دیکھو اسکے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہوجاتا ہے میں ان تمام لوگوں سے کہتا ہوں کہ دوہرا معیار نہ تو مہاجروں کو دیوار سے لگا سکتا ہے اور نہ ہی مہاجروں کیلئے پاکستان کی زمین تنگ کرسکتا ہے ۔ ہم سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ مانگنے والے پہلے خود کو پاکستانی ثابت کریں اسکے بعد ہم سے حب الوطنی کی با ت کریں۔اپنے خطاب میں آفاق احمد نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ موت برحق ہے ۔ موت کو آنا ہی ہے لیکن میں موت کے ڈر سے اپنے قوم کا سودا کرسکتا ہوں نہ اپنی قوم کو چھوڑ سکتا ہوں ۔ میں ان تمام قوتوں کو باور کرادینا چاہتا ہوں جو طاقت سے مروب کرنا چاہتے ہیں کہ مہاجر قوم کو طاقت سے دبانے کی خواہش دیوانے کا خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔ آفاق احمد نے کہا کہ آج شہر کا مینڈیٹ تقسیم کرکے ، جوتیوں میں دال بانٹ کر جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مہاجروں کو تقسیم کردیا وہ غلطی پر ہیں ۔ جن لوگوں نے بھی بہادرآباد یا پی آئی بی کے نام پر اپنی دکان سجائی یا اپنی لگامیں ایجنسیوں کے ہاتھ میں دے دی ہیں ان کا حساب مہاجر قوم ضرور لے گی ۔ میں اپنے مہاجر بزعگوں سے پوچھتا ہوں کہ جو اینجسیوں کو اپنی لگامیں دے چکے کیا وہ مہجر قوم کے کبھی مسیحا ہوسکتے ہیں؟ کیا ایسے لوگ مہاجر قوم کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟ کیا ایسے لوگ جو چند ایم این اے یا ایم پی اے کی سیٹوں کیلئے مہاجر عوام کے مقدس ووٹ کو بے حرمت کرسکتے ہیں کیا وہ کبھی مہاجروں کے خیر خواہ ہوسکتے ہیں؟ میں جانتا ہوں آج میری پوری قوم ایسے لوگوں کا کڑا احتساب کرنے کیلئے بے چین ہے ۔ اپنے خطاب میں کہا کہ کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ ایجنسیوں نے مجھے دھمکیاں دینے یا مرتضی بھٹو کا انجام یاد نہ دلایا ہوگا؟ لایا ہے بار بار کہا کہ ٹرالر کے نیچے آسکتے ہو، مرتضی بھٹو بنائے جاسکتے ہو لیکن میں نے ان سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ مجھے ڈرا کر مجھے میری قوم سے دور کرنے کی سوچ اپنے ذہنوں سے کھرچ دو ۔ میں کل بھی کہتا تھا اور آج بھی کہتا ہوں کہ میری قوم مہاجر اور میں مہاجر ہوں ، نہ میں کل نیا پرا نا سندھی تھا نہ آج ہوں اور قیامت تک کوئی میری قوم کو کسی دوسرے کی چھتری کے نیچے نہیں لاسکتا ۔ آفاق احمد نے کہا کہ مہاجروں نے ہمیشہ پاکستان سے وفاداری نبھائی اسکے بدلے میں انہیں صرف تعصب کا نشانہ بنایا گیا ۔ یہ تعصب نہیں تو کیا ہے کہ ماڈل ٹاﺅن کے گیارہ مقتولین پر پورا ملک آج تک رو رہا ہے اور ساری سیاسی جماعتیں بشمول فاروق ستار مرثیہ پڑھ رہے ہیں لیکن کراچی جس میں ہزاروں لوگ ماردیئے گئے اس پر کسی نے آواز نہیں اٹھائی ۔ میں آج کراچی کی تباہی دیکھتا ہوں، کوٹہ سسٹمکے ذریعے معاشی قتل عام دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے ۔میں اپنی قوم کے بزرگوں سے پوچھتا ہوں کہ کہ کیا اس کالے کوٹہ سسٹم کے خلاف آواز اٹھانا گناہ ہے ؟ ۔ میں اپنی قوم سے پوچھتا ہوں کہ اپنی مہاجر قوم کیلئے مہاجر ماﺅں سے ایک ایک بیٹا مانگ کر مہاجر حقوق حاصل کئے بغیر قومی سیست اور متحدہ کی باتیں کرنا قوم سے غداری نہیں تھی ؟ یقینا تھی اور اس غداری کے خلاف آفاق احمد نے بغاوت کی اور ہمیشہ کروں گا ۔ اپنے خطاب میں آفاق احمد نے کہا کہ 2018میں مہاجر عوام کے پاس پھر موقع آیا ہے کہ جن لوگوں نے تیس سال انکے ووٹوں کی تذلیل کرکے اپنے گھر بھرے انہیں ہمیشہ کیلئے گھر بھیج دیا جائے اور یہ اسی وقت ہوگا کہ آج مہاجر قوم یہ فیصلہ کرکے کہ انتخابات میں کھڑا ہونے والا چھوٹا ہو یا بڑا ، گورا ہو یا کالا اسکی پرواہ کئے بغیر اسے ووٹ دیا جائے جو مہاجر پرچم تھامے ہوا ہو اور وہ امیدوار صرف اور صرف مہاجر قومی موومنٹ کا نمائندہ ہی ہوسکتا ہے کیونکہ مہاجر قومی موومنٹ ہی وہ جماعت ہے جس نے تیس سالوں سے مہاجر پرچم تھام رکھا ہے۔ آفاق احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم سیاسی نہیں ہیں، ہمیں اداکاری نہیں آتی لیکن ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنی قوم کے حقوق اداروں اور متعصب لوگوں کے جبڑوں سے کیسے چھینا جاتا ہے ، ہم یہ جانتے ہیں کہ اپنی قوم کی ترقی کیلئے کس طرح مخالفوں کو نیچا دکھا سکتے ہیں ۔ میں اپنی قوم سے کہنا چاہوں گا کہ تیس سال آپ نے مفاد پرستوں کو آزامایا ، ایک بار صرف ایک بار مہاجر قومی موومنٹ کو بھی آزمائیں اور اس یقین کے ساتھ آزمائیں کہ قوم کے حقوق مہاجر پرچم کے تلے ہی ملیں گے ۔ اپنے خطاب کے آخر میں آفاق احمد نے کہا کہ قوم کو 2018کے انتخابات میں نظریاتی بن کر مہاجر قومی موومنٹ کے امیدواروں کو کامیاب بنانا ہوگا ۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ تیس سال میں مہاجر قوم کو جو دکھ اور تکلیفیں ملیں انکا ازالہ اپنی پوری محنت اور ایمانداری سے کریں گے ۔
مہاجر بزرگوں کا اجتماع
٭ جلسہ گاہ کو مہاجر قومی موومنٹ کے پرچموں ، برقی قمقموں سے سجادیا گیا ۔ مہاجر بزرگوںکی آمد کا سلسلہ جاری ۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا اور مہاجر سوشل نیٹ ورک کے اراکین اجتماع کی کوریج کیلئے موجود ہیں
٭ بوقت 9:00بجے تلاوت قرآن پاک سے اجتماع کا آغاز
٭ تلاوت کلام پاک کے بعد مہاجر قومی موومنٹ پاکستان کی لیبر ڈویژن کے رکن افضل کوٹی مہاجر بزرگوں سے خطاب کررہے ہیں۔
٭ افضل کوٹی کا پرجوش خطاب ، زندہ ہے مہاجر زندہ ہے کے نعرے ، اجتماع میں موجود مہاجر بزرگوں کا بھرپور خیر مقدم ، نعروں کا ہاتھ اٹھا کر جواب دیا ۔
٭ افضل کوٹی کے خطاب کے بعد سینئر مرکزی رہنما کامران رضوی اجتماع میں موجود مہاجر بزرگوں سے اظہار خیال کررہے ہیں جبکہ چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ پاکستان جناب آفاق احمد کی اجتماع میں کسی بھی لمحہ آمد متوقع
٭ چیئرمین آفاق احمد کی کسی بھی لمحہ آمد کے اعلان کے بعد مہاجر قومی موومنٹ کے رضاکار مستعد۔ مہاجر سوشل نیٹ ورک اراکین اور اجتماع کے انتظامات پر مامور اراکین چیئرمین آفاق احمد کے والہانہ استقبال کیلئے مقررہ جگہوں پر موجود جبکہ اجتماع میں موجود مہاجر بزرگوں کا چیئرمین آفاق احمد کی آمد کا بے چینی سے انتظار۔
٭ بوقت 9:45، چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ جناب آفاق احمد پنڈال میں پہنچ گئے ۔ جلسہ میں موجود بزرگوں کی جانب سے کھڑے ہوکر چیئرمین آفاق احمد کا استقبال ۔ پنڈال جئے مہاجر جئے آفاق بھائی کے نعروں سے گونج اٹھا ۔
٭ چیئرمین آفاق احمد نے پنڈال میں موجود شرکاءکے نعروں کا ہاتھ اٹھا کر جواب دیا ۔
٭ چیئرمین آفاق احمد کے خطاب سے قبل مرکزی رہنما ءنعیم حشمت مہاجر بزرگوں سے اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔
٭ بوقت9:55معروف مہاجر مقرر انور خان نے چیئرمین آفاق احمد کو مدعو کرنے کیلئے ڈائس سنبھال لیا۔
٭ بوقت 10:00چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ جناب آفاق احمد مہاجر بزرگوں اور نوجوانوں سے خطاب کیلئے ڈائس پر پہنچ گئے ۔ پنڈال میں موجود مہاجر عوام کو فخر مہاجر ، سپوت مہاجر جناب آفاق احمد کا کھڑے ہوکر جئے مہاجر کے نعروں سے استقبال۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں