191

میڈیا کو قدرتی آفات اور حادثات کے مواقعوں پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور سنسنی سے گریز کرنا چاہیے: مقررین

لاہو(پاکستان اپ ڈیٹس ) لاہور پریس کلب اور یو ای ٹی میڈیا سوسائٹی کے زیر اہتمام ممبران کیلئے دوروزہ میڈیا ٹریننگ ورکشاپ کا اہتمام کیا گیاجس کی اختتامی تقریب میں صدر اعظم چوہدری، سیکرٹری عبدالمجید ساجد، سابق صدر محمد شہباز میاں، اجمل جامی، پرنیا خان، اسامہ طیب اور ڈاکٹر تنویر قاسم خان نے خطاب کیا۔ صدر اعظم چوہدری نے کہا کہ صحافیوں کی جدید خطوط پر تربیت وقت کا تقاضہ ہے ، شعبہ صحافت سے منسلک ہونے کے خواہشمند نوجوان فنی اور تکنیکی شعبوں کو ترجیح دیں۔سابق صدر محمد شہباز میاں نے کہا کہ ملک و قوم کی خدمت سماجی احترام اور باعزت روزگار کیلئے صحافت بہترین شعبہ ہے۔ عام آدمی کی آواز بننے کے حوالے سے جو ذمہ داری پارلیمنٹ اور دیگر آئینی اداروں کو انجام دینی چاہیے تھی وہ میڈیا انجام دے رہا ہے۔ سیکرٹری عبدالمجید ساجد نے تربیتی ورکشاپ میں شریک تمام صحافیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو قدرتی آفات اور حادثات کے مواقعوں پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور سنسنی سے گریز کرنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ پریس کلب گذشتہ دوسالوں سے صحافیوں کی تربیت کیلئے کوشاں ہے اور آئندہ بھی ورکشاپس کا انعقاد جاری رہے گا۔ مقررین نے کہا کہ پرنٹ میڈیا ہویا الیکٹرانک، غیر معیاری اور من گھڑت معلومات عوامی رائے کو ہمیشہ کے لئے آلودہ کر دیتی ہیں اور صحافتی اعتبار متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ا±س واقعہ کی تاریخی حیثیت بھی غیر حقیقی ہو جاتی ہے۔ لہذا کسی خبر کو قابل اعتبار بنانے اور پیشہ وارانہ لحاظ سے متوازن بنانے کے لیے صحافتی اخلاقیات متعین کرنانہایت ضروری ہوجاتا ہے۔ صرف سنسنی خیزی اور ریٹنگ کاخمار سوار ہوتا ہے۔ بعض غیر ذمہ دارکرداروں اور اداروں کے مفاداتی رویوں کی وجہ سے الیکٹرانک میڈیا خاص طور پر اور پرنٹ میڈیا عمومی طور پر اپنی کریڈبیلٹی کھو رہاہے۔ انہوں نے سٹوڈنٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ناامید شخص ہر اچھا موقع گنوا دیتا ہے،اور پر امید انسان پریشانی میں بھی راستہ تلاش کرلیتا ہے۔صلاحیتیں،قابلیتیں ہر انسان میں یکساں ہوتی ہیں۔ آخر میں سوال وجواب کی نشست بھی ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں